حالیہ عرصے میں اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی اور پابندیوں کی ایک ایسی بے مثال اور بڑھتی ہوئی لہر کا سامنا ہے جو حکومتی وزراء، مستوطنین، اور تعلیمی و معاشی اداروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ مبصرین اس صورتحال کو اس طرح بیان کر رہے ہیں کہ اسرائیل "دنیا کا سب سے زیادہ بائیکاٹ کیا جانے والا ملک” بن گیا ہے۔
اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف ایک مربوط بین الاقوامی محاذ بن چکا ہے، بالخصوص 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے۔ بائیکاٹ کی تحریک (BDS)، جو برسوں سے اسرائیل کے خلاف کام کر رہی ہے، کو علاقائی اور بین الاقوامی ممالک اور تنظیموں کی جانب سے بڑھتی ہوئی حمایت ملی ہے، جس سے اسے ایسی طاقت اور یکجہتی ملی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
پہلے اسرائیل بائیکاٹ کی کوششوں کو نسبتاً محدود کر لیتا تھا اور اس کے کوئی خاص معاشی اثرات نہیں ہوتے تھے، لیکن نتن یاہو حکومت کے ساتھ صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ اب بائیکاٹ کی تحریک تعلیمی اور ثقافتی پابندیوں سے آگے بڑھ کر اسرائیل کا معاشی گلا گھونٹنے اور عالمی سرمایہ کاری نکالنے کی کوششوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس کی واضح مثالیں نارویجن ویلتھ فنڈ کا اسرائیل سے سرمایہ کاری نکالنا، اقوام متحدہ کی بلیک لسٹس کا اجرا، اور فرانس، آئرلینڈ، اور بیلجیم جیسے یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سائنسی تعاون کو محدود کرنے کی کوششیں ہیں۔ یہ صورتحال فنکاروں کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں کنسرٹس کرنے سے انکار، اور مصنفین کی جانب سے اپنی کتابوں کا عبرانی میں ترجمہ روکنے میں بھی ظاہر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کو یوروویژن گانے کے مقابلے اور فیفا (فٹ بال) سے باہر نکالنے کی کوششیں بھی کی گئیں، جو ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ سنگین تھیں۔
پابندیاں عائد کرنے کے لیے مشترکہ اقدام
فرانس کی قیادت میں برطانیہ، کینیڈا، ناروے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ مل کر ایک مربوط بین الاقوامی اقدام بھی جاری ہے جس کا مقصد مغربی کنارے میں تشدد کو ہوا دینے والے عناصر پر پابندیاں عائد کرنا ہے۔ اسی تناظر میں فرانسیسی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل سموتریچ کے ملک میں داخلے پر پابندی کا اعلان کیا (یہ قدم اس سے قبل وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن غفیر کے خلاف بھی اٹھایا گیا تھا)، اور اس کی وجہ ان کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق اور بستیوں کی تعمیر کی حامی پالیسیاں بتائی گئیں۔
بات صرف افراد تک محدود نہیں، بلکہ کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے ایسے افراد اور تنظیموں پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں جو مستوطنین (آبادکاروں) کے تشدد کی حمایت کرتے ہیں۔ اب سب کی نظریں 15 جون کو ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس پر ہیں، جہاں اسرائیلی وزراء (خاص طور پر بن غفیر) پر پابندیاں عائد ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ (الجزیرہ نیٹ، 11/6/2026)۔


