مرکز اطلاعات فلسطین
قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اتوار کے روز ایک بچے سمیت تین فلسطینی شہری شہید ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ محمد رمزی ابو حصیرہ (39 برس) گذشتہ روز السرايا چوک پر قابض فوج کی جانب سے پیٹ میں گولی لگنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ اتوار کی صبح زکی محمد القرا (30 برس) بھی خان یونس کے مشرقی علاقے بنی سہیلہ چوک کے قریب قابض فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے۔
اسی تناظر میں ایک طبی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ امیر عماد البشینی (13 برس) نامی بچہ آدھی رات سے کچھ دیر قبل جنوبی خان یونس کے علاقے البطن السمین میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گیا۔ اس طرح گذشتہ ہفتے کے روز غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں قابض فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔
اتوار کی صبح خان یونس کیمپ میں ایک گھر کے صحن پر اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شہری شدید زخمی ہو گیا۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال مغرب میں واقع بیت لاہیہ میں فائرنگ کی جبکہ اسرائیلی جنگی کشتیوں نے غزہ شہر کے سمندر میں گولہ باری کی۔
قابض اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں فضائی اور توپ خانے کے حملوں کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے۔ وہ بے گھر افراد کے مقامات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ یلو لائن کہلانے والے علاقوں کے اندر تباہی اور بربادی کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے اور سامان کی نقل و حمل اور انسانی امداد کی فراہمی پر پابندیاں بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دس اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے شہداء کی تعداد 988 ہو گئی ہے جبکہ 3,122 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 783 لاشوں کو ملبے سے نکالا گیا ہے۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی سفاکیت کے بعد سے اب تک کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 72,998 افراد شہید اور 173,230 زخمی ہوئے ہیں جو غزہ کی پٹی پر قابض دشمن کی مسلسل سفاکیت کی بھاری انسانی قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔


