امریکہ اور ایران کا جنگ بندی کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط، جنگ کا خاتمہ قریب

0
4

مرکز اطلاعات فلسطین

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کے لیے طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت، دونوں صدور کے الیکٹرانک دستخط کے بعد باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی اور امریکی صدور نے تھوڑے سے وقفے کے ساتھ دور سے الیکٹرانک طور پر اس دستاویز پر دستخط کیے۔ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے نامہ نگار نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر عمانویل میکروں کے ساتھ محل ورسائی میں عشائیے کے دوران ذاتی طور پر معاہدے کی نقل پر دستخط کیے، جس کے بعد اس کی تصویر ایران اور ثالث ممالک کو بھیج دی گئی اور یہ یادداشت نافذ ہو گئی۔

دستاویز میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے، ایران پر عائد بحری ناکہ بندی اور امریکی پابندیاں ہٹانے، ایرانی جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور کم از کم 300 ارب ڈالر کی لاگت سے ایران کی تعمیر نو کا منصوبہ شامل ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ کے خاتمے کا متقاضی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں فریقین کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت میں ایران اور لبنان دونوں کی خودمختاری کے احترام کا اعادہ کیا گیا ہے۔

وزارت نے واضح کیا کہ ڈیڑھ صفحے اور 14 شقوں پر مشتمل اس یادداشت میں لبنان کا ذکر تین بار کیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ یادداشت مذاکرات کے مرحلے کے آغاز کے لیے مختلف محاذوں بالخصوص لبنان میں جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ وزارت نے کہا کہ جنوبی لبنان میں قابض اسرائیل کی فوجی موجودگی کا تسلسل معاہدے میں مذکور لبنانی خودمختاری کے احترام کے اصول کے منافی ہے۔ تہران نے خبردار کیا کہ جنوبی لبنان کے حصوں پر قابض اسرائیل کا تسلط مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی ہے اور ایران اس حوالے سے ضروری اقدامات کرے گا۔

مذاکراتی عمل کے بارے میں وزارت نے وضاحت کی کہ ایران اور امریکہ نے 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات کرنے کا عہد کیا ہے، جن کا پہلا دور آئندہ جمعہ کو شروع ہوگا۔ یادداشت میں ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کیلئے امریکی عزم شامل ہے، اور رسمی دستخط کے بعد پابندیوں اور جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کا ذکر ہے۔ امریکی فریق نے 30 دنوں کے اندر ایرانی بحری جہاز رانی پر عائد پابندیاں ہٹانے اور ایرانی جہازوں کو تنگ نہ کرنے کا عہد کیا، اور اس وعدے پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔

ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو معمول پر لانے اور کچھ رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے بھی کام کرے گا، جس میں تہران اور مسقط ضرورت پڑنے پر خطے کے ممالک سے مشاورت کر کے جہاز رانی کا انتظام کریں گے۔ معاشی پہلو میں امریکہ نے ایرانی اثاثوں سے متعلق رکاوٹیں دور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

حتمی معاہدے کیلئے مذاکرات

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران ہفتے کے آخر میں رسمی دستخط کے بعد امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی تفصیلات ظاہر کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگلا مرحلہ 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے پر مرکوز ہوگا۔

قالیباف نے بتایا کہ یادداشت کی چودھویں شق ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدے کو منظوری کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کا تقاضا کرتی ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی معاہدہ سلامتی کونسل کی توثیق کے بعد بھی قابلِ اعتماد نہیں رہتا، اور ایران کیلئے حقیقی ضمانت اس کی اپنی طاقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں ترجیح دیگر شقوں کے نفاذ سے پہلے جنگ کے خاتمے سے متعلق پہلی شق پر عمل درآمد کرنا ہے۔ یہ مفاہمت بیروت کے جنوبی مضافات سے جنگ بندی کے دائرہ کار کو وسعت دے کر تمام لبنانی علاقوں تک پہنچانے پر مشتمل ہے۔

آبنائے ہرمز کے بارے میں قالیباف نے کہا کہ یہ آبنائے پہلے جیسی نہیں رہے گی، لیکن ایران بحری جہاز رانی کے عالمی قوانین کے منافی اقدامات کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ یادداشت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو خدمات فراہم کرنے کے عوض محصولات حاصل کرنے کا ایران کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔