قاہرہ میں مصر، قطر اور ترکی کے ثالثوں کے ساتھ فلسطینی دھڑوں کے اجلاس میں شریک ذرائع نے غزہ کی پٹی میں مزاحمتی ہتھیاروں کی فائل سے متعلق دستاویز کی شق (8) کی ایک نئی ترمیم شدہ تجویز کی تفصیلات بتائی ہیں، جو کہ ابھی تک دھڑوں اور ثالثوں کے درمیان ایک متفقہ اور حتمی نتیجے تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔
اجلاسوں میں شریک ایک فلسطینی دھڑے کے ذرائع نے وضاحت کی کہ پیش کی گئی دستاویز کے 15 میں سے 14 نکات پر دھڑوں اور ثالثوں، دونوں کی جانب سے حتمی طور پر اتفاق کر لیا گیا ہے ۔
الجزیرہ نیٹ سے بات کرتے ہوئے (نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر) اس ذریعے نے بتایا کہ شق (8) کے لیے مصری ثالث کی جانب سے پیش کی گئی عبارت کو حماس اور اجلاس میں شریک ایک اور دھڑے نے قبول نہیں کیا ۔
عالمی امن کونسل کے نمائندوں اور حماس کے مذاکراتی وفد کے درمیان زیرِ بحث دستاویز میں شق نمبر (8) کی ترمیم شدہ مصری تجویز میں یہ کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں کو جمع کرنے اور ان کا ریکارڈ رکھنے کا عمل بتدریج، مختلف مراحل میں، اور ایک طے شدہ ٹائم فریم کے مطابق کیا جائے گا ۔ یہ عمل قومی کمیٹی، اسٹیبلائزیشن فورس (قوۃ الاستقرار)، اور تصدیق و عمل درآمد کی کمیٹی کے تعاون سے ہو گا ۔ یہ کارروائی فلسطینی قیادت کے ماتحت ہو گی اور تمام مسلح تنظیمیں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی گنتی کے اس عمل میں حصہ لیں گی ۔ کسی بھی فلسطینی تنظیم سے اپنے ہتھیار اسرائیل منتقل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔ اس کا تعلق معاہدے کے پہلے مرحلے کی تکمیل، انتظامی کمیٹی کے داخلے اور اس کے کام شروع کرنے، اسٹیبلائزیشن فورس کی تعیناتی، اور مسلح ملیشیاؤں کے خاتمے سے ہے، اور یہ سب صدر ٹرمپ کے منصوبے اور پٹی سے اسرائیل کے بتدریج انخلاء کے سیاسی راستے کے مطابق ہو گا ۔
الجزیرہ نیٹ سے بات کرنے والے ذریعے نے انکشاف کیا کہ حماس نے بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کو ایسی ذمہ داری دینے سے انکار کر دیا ہے جن پر اتفاق نہیں ہوا، جیسے کہ اسے پٹی میں سکیورٹی آپریشنز کے انتظام یا ہتھیاروں کے معاملے سے نمٹنے میں شامل کرنا ۔ حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شرم الشیخ میں ہونے والے معاہدے کے مطابق اس کمیٹی کا کردار صرف فورسز کو الگ کرنا اور سرحدی علاقے میں موجود رہنا ہو گا ۔
ذریعے نے مزید کہا کہ تحریک (حماس) نے مزاحمت کے حوالے سے "بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر)” کی اصطلاح استعمال کرنے سے بھی انکار کیا ہے، کیونکہ تحریک کے نزدیک یہ ایک وسیع اور مبہم اصطلاح ہے، جس کی تشریح میں بعض ہسپتال، گودام اور یہاں تک کہ فور وہیل ڈرائیو گاڑیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں، لہذا یہ بات مکمل طور پر ناقابل قبول ہے ۔
ذریعے نے تجویز پر تیسرے اعتراض کا بھی انکشاف کیا، جو ہتھیاروں کو "جمع کرنے” یا "چھیننے (نزعِ اسلحہ)” کے الفاظ کے حوالے سے ہے ۔ تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ دستاویز کی شق (8) پر بات کرتے ہوئے صرف "ہتھیاروں کے معاملے سے نمٹنے” (التعامل مع ملف السلاح) کی اصطلاح برقرار رکھی جائے، اور "چھیننے” یا "جمع کرنے” کی بات کو مسترد کر دیا گیا ہے ۔
موجودہ صورتحال کے حوالے سے ذریعے نے انکشاف کیا کہ حماس نے ثالثوں کو شق (8) کے لیے ایک نئی اور ترمیم شدہ عبارت پیش کی ہے جس میں اس کے اعتراضات کے متبادل تجاویز شامل ہیں ۔ اس عبارت کے جواب میں ثالثوں نے "معمولی تبدیلیاں” کی ہیں ۔ ذریعے نے بتایا کہ حماس کو یہ موصول ہو گئی ہیں اور اس نے کچھ وقت مانگا ہے تاکہ بیرون ملک موجود تحریک کی قیادت اس کا مطالعہ کر کے اپنا باقاعدہ جواب دے سکے ۔
اسی دوران، ایک ذمہ دار مصری ذریعے نے قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران غزہ کے لیے اعلیٰ مندوب نکولائی ملاڈینوف اور حماس کے وفد یا دیگر فلسطینی دھڑوں کے وفود کے درمیان براہ راست ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے ۔ ذریعے نے اشارہ دیا کہ اب تک ہتھیاروں کے معاملے پر جتنی بھی تجاویز سامنے آئی ہیں، وہ ملاڈینوف یا اسرائیل کو قبول نہیں ہیں ۔ (الجزیرہ نیٹ، 10/6/2026) ۔


