باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مزاحمتی سکیورٹی اداروں نے کارروائی کے کچھ ہی دیر بعد شہید عزالدین الحداد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ایک ایجنٹ کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جس نے دورانِ تفتیش اس کارروائی میں اپنے کردار کا اعتراف بھی کر لیا ہے ۔
ذرائع نے بدھ کے روز صحافتی بیان میں مزید بتایا کہ گرفتاری کے وقت ایک اسرائیلی افسر اس ایجنٹ کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھا، لیکن جیسے ہی اسے صورتحال کا اندازہ ہوا، اس نے فوری طور پر رابطہ منقطع کر دیا اور ایجنٹ کو اس کے انجام پر اکیلا چھوڑ دیا ۔ اس واقعے نے ماضی کی ان یادوں کو تازہ کر دیا ہے جب قابض فورسز نے اپنے ایجنٹوں کے بے نقاب ہونے یا پکڑے جانے پر انہیں تنہا چھوڑ دیا تھا ۔ ذرائع نے اشارہ دیا کہ یہ واقعہ ان پچھلے واقعات جیسا ہی ہے جن میں فلسطینی مزاحمت کاروں کو نشانہ بنانے والے ایجنٹ سکیورٹی اداروں کے ہتھے چڑھے اور قابض فورسز نے ان سے فوراً لاتعلقی اختیار کر لی ۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں ہونے والی حالیہ تبدیلیاں، جن میں انٹیلی جنس معاملات دیکھنے والے کئی افسران اور اہلکاروں کے تبادلے شامل ہیں، اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ قابض فورسز کے سکیورٹی نظام کو کس قدر بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ یہ تبدیلیاں اسرائیلی انٹیلی جنس سرگرمیوں کے خلاف مزاحمتی فورسز کی کامیابیوں کا بھی ثبوت ہیں ۔
مزید یہ بھی واضح کیا گیا کہ "ڈبل کراسنگ” (التجنيد المزدوج) کی کارروائیوں نے اسرائیلی اداروں کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے، جس کے باعث وہ اپنے نیٹ ورکس اور فیلڈ ایجنٹس کی کڑی نگرانی پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ، مزاحمت کاروں نے غزہ کی پٹی کے اندر قابض فورسز کے کئی اہداف اور کارروائیوں کو بھی کامیابی سے ناکام بنایا ہے ۔ انہی ذرائع کے مطابق، پچھلے کچھ عرصے میں مزاحمتی سکیورٹی اداروں نے کئی ایجنٹوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں سے کچھ کو انتہائی "خطرناک” قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں سے کچھ نے پٹی کے مشرقی علاقوں کی جانب فرار ہونے کی کوشش کی جو کہ "یلو لائن” (الخط الأصفر) کے پیچھے واقع ہیں، جبکہ کئی دیگر کو مختلف سکیورٹی آپریشنز کے دوران ٹھکانے لگا دیا گیا ۔
ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمتی سکیورٹی اداروں نے پچھلے چند مہینوں کے دوران خود پر ہونے والے مسلسل حملوں، جن میں ٹارگٹ کلنگز اور ایجنٹوں کے ذریعے کی جانے والی انٹیلی جنس سرگرمیاں شامل ہیں، کے اثرات پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے ۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قابض فورسز کے سہولت کاروں کا پیچھا کرنے اور ان پیچیدہ زمینی حالات میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی ۔ (فلسطین آن لائن، 10/6/2026)


