وسطی مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے مشرق میں واقع عیسائی اکثریتی قصبے "الطیبہ” میں منگل کی شام اسرائیلی مستوطنین (آبادکاروں) کی جانب سے کیا جانے والا حملہ فلسطینیوں اور عرب و مغربی سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ بحث ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد شروع ہوئی جن میں قصبے کی زرعی زمینوں اور فصلوں کو آگ میں جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
‘صوت القدس من اجل العدالۃ’ (Voice of Jerusalem for Justice) نامی گروپ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا: "ہم منگل کی شام فلسطینی عیسائی گاؤں الطیبہ پر کیے جانے والے پرتشدد ہجوم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔” انہوں نے اسے "فلسطینی دیہات کے خلاف آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے پرتشدد رجحان کا حصہ” قرار دیا۔
دوسری جانب، آرچ بشپ عطا اللہ حنا کے آفیشل پیج نے الطیبہ میں لاطینی پیرش کے پادری فادر بشار فواضلہ کے حوالے سے بتایا کہ مستوطنین نے جان بوجھ کر پٹرول پمپ کے سامنے واقع ‘جبل المصیص’ کے ایک وسیع علاقے کو آگ لگا دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فلسطینی سول ڈیفنس کی ٹیموں کو ابتدائی طور پر "سکیورٹی کوآرڈینیشن کا طریقہ کار مکمل نہ ہونے” کے بہانے جائے وقوعہ تک پہنچنے سے روکا گیا، جس کی وجہ سے آگ پھیل گئی اور آس پاس کی زمینوں اور املاک کو خطرے میں ڈال دیا۔
پیج نے اس بات پر زور دیا کہ یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ مستوطنین کے تشدد کے ایک مسلسل اور بڑھتے ہوئے سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ تشدد جانوں کے لیے خطرہ ہے، املاک کو تباہ کر رہا ہے، اور ایک پوری کمیونٹی کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی زمین پر موجود ہے۔ الطیبہ کی یہ تکالیف ایک ایسے دردناک واقعے کی عکاسی کرتی ہیں جو مغربی کنارے کے کئی دیگر علاقوں میں بھی دیکھا جا رہا ہے جہاں یہ حملے بغیر کسی روک ٹوک کے بڑھ رہے ہیں۔ (الجزیرہ نیٹ، 11/6/2026)۔


