مقبوضہ بیت المقدس: قابض ریاست میں مذہبی آزادی کے ڈیٹا سینٹر کی جانب سے جاری کردہ نئے اعداد و شمار نے عیسائیوں اور ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں اور ہراساں کیے جانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافے کا انکشاف کیا ہے ۔
مقبوضہ بیت المقدس میں پیش کی گئی اس رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے لے کر اب تک عیسائیوں کے خلاف حملے اور ہراساں کرنے کے 88 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں سے صرف دوسری سہ ماہی کے دوران 63 واقعات پیش آئے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال 2026 میں یہ تعداد پچھلے سال ریکارڈ کیے گئے 181 واقعات سے بھی تجاوز کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کر سکتی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق، ان خلاف ورزیوں میں تھوکنے، زبانی گالیاں دینے، قبرستانوں، کتبوں، مجسموں اور صلیبوں کی توڑ پھوڑ کے علاوہ نسل پرستانہ نعرے لکھنا اور عیسائی مذہبی مقامات کی بے حرمتی کے واقعات شامل ہیں ۔ یہ واقعات زیادہ تر مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر (البلدۃ القدیمہ)، کوہِ صہیون (جبل صیہون) اور آرمینیائی پیٹریارکیٹ (آرمینیائی کلیسا) کے گردونواح میں مرکوز رہے ۔
(فلسطینی نیوز اینڈ انفارمیشن ایجنسی (وفا)، 10/6/2026) ۔


