ان کے نام محض اعداد نہیں غزہ کے ننھے شہداء کی یاد میں ڈیجیٹل مہم کا آغاز

0
9

مرکزاطلاعات فلسطین

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی کمیٹی نے سوشل میڈیا پر "ان کے نام محض اعداد نہیں” کے عنوان سے ایک وسیع مہم کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد ان معصوم بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے جو قابض اسرائیل کی وحشیانہ جنگ کے دوران شہید ہوئے، اور ان کی ان کہانیوں اور خوابوں کو دنیا تک پہنچانا ہے جو ملبے تلے دب کر رہ گئے۔

اس تقریب میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں سمیت ان خاندانوں نے بھی شرکت کی جن کے لختِ جگر اس سفاکیت کا شکار ہوئے۔ یہ تحریک ایک انسانی رنگ لیے ہوئے ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے یکجہتی کا پیغام دینا اور ان بچوں کے ناموں کو خبرناموں کے اعداد و شمار سے نکال کر مکمل زندگیوں اور کہانیوں کے طور پر پیش کرنا ہے۔

شرکاء نے شہید بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز ان کے ناموں کے ساتھ شیئر کیں، جن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہر نام کے پیچھے ایک کہانی اور ایک ادھورا خواب ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک اجتماعی مہم کے ذریعے ان بچوں کے ناموں کو دستاویزی شکل دی گئی اور ان کی زندگیوں کے مختصر قصے بیان کیے گئے تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں ان ننھے شہداء کی یادوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا جائے۔

غزہ میں "فلسطین لائیو” چینل کے ڈائریکٹر سمیر خلیفہ نے بتایا کہ یہ مہم "عرب انٹرنیشنل سینٹر برائے ریسرچ اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز” نے فلسطینی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کے اشتراک سے شروع کی ہے۔ یہ میڈیا اور حقوقِ انسانی کی ایک مشترکہ کوشش ہے جس کے تحت 72 گھنٹے تک مسلسل لائیو نشریات جاری رہیں گی، جس میں عرب اور یورپی ممالک سمیت بااثر شخصیات شرکت کریں گی تاکہ شہید بچوں کی داستانِ غم عالمی رائے عامہ تک پہنچائی جا سکے۔

سمیر خلیفہ نے وضاحت کی کہ یہ مہم اس حقیقت پر مبنی ہے کہ تقریباً 21 ہزار شہید بچے، جن کی عمریں ایک سال سے 17 سال کے درمیان ہیں، اعداد و شمار کے رجسٹروں میں محض کوئی ہندسہ نہیں ہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک کی ایک مکمل زندگی تھی جسے بے دردی سے کاٹ دیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مہم کا مقصد ان بچوں کا انسانی پہلو اجاگر کرنا اور ان کے ناموں کو قابض اسرائیل کے سرکاری بیانیے کے خلاف ایک زندہ گواہی میں تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس مہم کا آغاز غزہ میں فلسطینی صحافیوں کی یونین کے یکجہتی کیمپ سے کیا گیا ہے، جہاں شہداء کے لواحقین اپنے بچوں کی کہانیاں سنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قانونی ماہرین بچوں کو نشانہ بنائے جانے کے معاملے پر بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے تناظر میں گفتگو کر رہے ہیں اور ان عالمی معاہدوں کی یاد دہانی کرا رہے ہیں جو اسے جرم قرار دیتے ہیں اور عالمی برادری کو اس کی ذمہ داری قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

مہم کا ایک اہم حصہ شہید بچوں کے ناموں کی تلاوت کرنا ہے، جس کے تحت غزہ میں 5000 بچوں کے نام پڑھے جائیں گے، جبکہ بقیہ ناموں کی تلاوت مہم میں شامل دیگر ممالک میں کی جائے گی تاکہ یہ اقدام سرحدوں سے بالاتر یکجہتی کی ایک مثال بن سکے۔

سمیر خلیفہ نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے لیے اس مخصوص مہم کا مقصد محض دستاویز سازی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد بچوں کو نشانہ بنانے پر قابض اسرائیل کا قانونی طور پر احتساب کرنا ہے۔

اسی تناظر میں فلسطینی صحافیوں کی یونین کے سیکرٹری عاھد فروانہ نے لکھا: "ان کی آواز بنیں جنہیں موت نے خاموش کر دیا”، جبکہ صحافی وسام بعلوشہ کا کہنا تھا کہ "ہر نام ایک کہانی، ایک مسکراہٹ اور ایک خواب ہے… وہ اعداد نہیں بلکہ وہ روحیں ہیں جو کبھی نہ مٹنے والے نقوش چھوڑ گئی ہیں”۔

ایک دلخراش شہادت میں فلسطینی شہری سمیر راضی نے اپنے 17 سالہ بیٹے حمزہ، 6 سالہ بیٹی دینا اور اپنی شریک حیات کی اسرائیلی بمباری میں شہادت کی کہانی سنائی۔ انہوں نے اپنے بچوں کے ادھورے خوابوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہید بچوں کی کہانیاں ایسی نہیں جنہیں محض اعداد و شمار میں سمیٹ دیا جائے۔

آیہ حسونہ، جن کے دو بچے حمزہ اور رغد السوسی شہید ہوئے، نے بتایا کہ کیسے اگست سنہ 2024ء میں خان یونس کے علاقے المواصی میں خیمے کے باہر کھیلتے ہوئے وہ اسرائیلی بمباری کا شکار ہوئے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچوں کے نام انسانی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہنے چاہئیں۔

مہم کے منتظمین نے اسے عالمی خاموشی کے خلاف ایک "ڈیجیٹل چیخ” قرار دیا ہے، جس کا مقصد انفرادی یادوں کو ایک اجتماعی عالمی یادداشت میں بدلنا ہے۔

اس مہم کے دوران کئی ٹیگز استعمال کیے گئے جن میں "ان کے نام محض اعداد نہیں”، "ہر نام کی ایک زندگی ہے”، "غزہ کے بچے” اور "ہم ان کے نام نہیں بھولیں گے” شامل ہیں۔ دنیا بھر کے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو اس میں شرکت کی کھلی دعوت دی گئی ہے۔

مہم میں شریک ولاء بطاط نے بتایا کہ اس اقدام میں 400 سے زائد ممبران شامل ہو چکے ہیں، جو اس کی عالمی وسعت کا ثبوت ہے۔ شرکاء کا ماننا ہے کہ یہ مہم بچوں کے ناموں کو گمنامی سے نکالنے اور ڈیجیٹل فضا میں ان کی آواز بلند کرنے کی ایک ایسی کوشش ہے جو یادداشت کو مٹانے کی سازش کے خلاف ایک طرح کی مزاحمت ہے۔