مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی میں صحت کا نظام آکسیجن کی فراہمی کے شدید بحران کی زد میں ہے، کیونکہ قابض اسرائیل نے زیادہ تر پروڈکشن پلانٹس کو تباہ کر دیا ہے اور اسپیئر پارٹس کی فراہمی پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس سے مریضوں خصوصاً انتہائی نگہداشت کے وارڈز (آئی سی یو) اور نرسریوں میں موجود بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
غزہ کے شمالی علاقے میں آکسیجن کے مرکزی پلانٹ کے سامنے سے صحت کے ڈھانچے کی تباہی کی تصویر واضح طور پر دکھائی دیتی ہے، جہاں جنگ کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل کے ہاتھوں تباہ ہونے والے مختلف پلانٹس کے پرزے جمع کر کے ایک عارضی پلانٹ بنایا گیا تھا تاکہ زندگی بچانے والی اس اہم گیس کی فراہمی کو کسی حد تک برقرار رکھا جا سکے۔
غزہ میں وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے قبل غزہ کی پٹی میں آکسیجن کے 34 پلانٹس موجود تھے، تاہم قابض اسرائیلی افواج نے ان میں سے 22 پلانٹس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اب صرف 12 پلانٹس انتہائی محدود صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جبکہ ضرورت مند مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
طبی ذرائع نے الجزیرہ مبشر سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ پلانٹس بار بار کی فنی خرابیوں اور قابض اسرائیل کی جانب سے مرمت کے لیے ضروری سامان کی فراہمی سے انکار کے باعث کسی بھی لمحے بند ہو سکتے ہیں، جس کا مطلب ہسپتالوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مکمل ناکامی ہو گا۔
خطرہ لاحق ہونے والی تنصیبات میں غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال مجمع میں موجود مرکزی پلانٹ بھی شامل ہے، جو سرحدی گزرگاہوں پر عائد پابندیوں کی وجہ سے مسلسل خرابیوں کا شکار ہے۔
وزارت صحت کے ڈائریکٹر مینٹیننس انجینئر مازن العرایشہ کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صحت کے نظام کے اجزاء کو نشانہ بنایا ہے، جن میں آکسیجن پلانٹس بھی شامل ہیں جو آئی سی یو، آپریشن تھیٹرز، نرسریوں، سینے کے امراض اور کینسر کے مریضوں کے لیے "شہ رگ” کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے ہی اسپیئر پارٹس کی فراہمی پر پابندی، یہاں تک کہ معمول کی مرمت کے سامان پر بھی روک ٹوک، پلانٹس کے کام جاری رکھنے کے لیے براہ راست خطرہ ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ ان مریضوں کے لیے ایک بڑا انسانی سانحہ جنم لینے والا ہے جو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن پر انحصار کرتے ہیں۔
العرایشہ نے وضاحت کی کہ صرف ایک پلانٹ تقریباً 150 ایسے مریضوں کی خدمت کرتا ہے جو اپنے گھروں میں آکسیجن سلنڈر بھرنے پر انحصار کرتے ہیں، انہوں نے تاکید کی کہ متبادل ذرائع کی عدم موجودگی میں ان کی سپلائی منقطع ہونے کا مطلب "یقینی موت” ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ وزارت صحت نے اس بحران پر قابو پانے کے لیے کئی بین الاقوامی اداروں سے رابطہ کیا ہے اور مغربی کنارے میں اسپیئر پارٹس کا ذخیرہ موجود ہے جس کی فنڈنگ پہلے ہی ہو چکی ہے، لیکن اسے غزہ لانا اب بھی قابض اسرائیل کی منظوری سے مشروط ہے جو تاحال جاری نہیں کی گئی۔
فلسطینی عہدیدار نے عالمی اداروں اور خصوصاً عالمی ادارہ صحت سے اپیل کی کہ وہ ان پرزہ جات کی فراہمی کے لیے دباؤ ڈالیں، انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آکسیجن پلانٹس مکمل طور پر بند ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے ذریعے نئے پلانٹس کی خریداری کی کوششیں بھی ناکام ہو گئی ہیں کیونکہ ان کی ترسیل کے لیے ضروری اجازت نامے نہیں مل سکے، جبکہ موجودہ پلانٹس پر شدید دباؤ کے باعث ان کی معیاد تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔


