مرکزاطلاعات فلسطین
مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں واقع جنین کے جنوبی قصبے سيلہ الظهر میں ایک مسلح صہیونی آباد کار نے اپنی گاڑی سمیت ایک سکول کے صحن میں گھس کر طلبہ پر اسلحہ تان لیا اور ان کا تعاقب کیا، جس کے نتیجے میں معصوم طلبہ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مذکورہ آباد کار اچانک سکول کے صحن میں داخل ہوا اور طلبہ کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا، جس پر بچے اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے پر مجبور ہو گئے، اس دوران وحشی آباد کار نے سکول کے اندر ہی اپنا اسلحہ نکال کر لہرانا شروع کر دیا۔
عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ کچھ دیر بعد یہ آباد کار وہاں سے فرار ہو گیا، خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی طالب علم کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں آباد کار کو سکول کے صحن میں دھاوا بولتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ طلبہ اپنی جانیں بچانے کے لیے مختلف سمتوں میں بھاگ رہے ہیں۔
یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی سفاکیت اور دہشت گردی کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے فلسطینیوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنا کر انہیں تنگ کرنے اور اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں غیر قانونی بستیوں کی توسیع کی راہ ہموار کی جا سکے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی تعداد تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ چکی ہے جو 141 بستیوں اور 224 آباد کار چوکیوں میں تقسیم ہیں، ان میں سے 2 لاکھ 50 ہزار کے قریب مقبوضہ بیت المقدس میں مقیم ہیں جسے اقوام متحدہ مقبوضہ فلسطینی علاقہ تسلیم کرتا ہے۔
نسلی دیوار و بستی مخالف مزاحمتی کمیشن کے مطابق قابض اسرائیل کی فوج اور آباد کاروں نے اپریل کے مہینے میں مجموعی طور پر 1637 حملے کیے، جن میں سے 540 حملے صرف آباد کاروں نے کیے، ان کارروائیوں میں املاک کی توڑ پھوڑ، ہزاروں درختوں کو اکھاڑنا اور فلسطینی زمینوں پر قبضہ کرنا شامل ہے۔
اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی مسلسل تصادم اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں کم از کم 1155 فلسطینی شہید، ہزاروں زخمی اور ہزاروں کو اغوا کر کے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں ڈالا جا چکا ہے۔


