مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع قصبے ترمسعیا میں آج اتوار کے روز انتہا پسند آباد کاروں کے ایک گروہ نے زیتون کے کم از کم 1000 درخت اکھاڑ دیے اور انہیں شدید نقصان پہنچایا، یہ کارروائی اس علاقے کی زرعی زمینوں کو نشانہ بنانے والی مسلسل سفاکیت کا حصہ ہے۔
ترمسعیا کی بلدیاتی کونسل کے رکن عبداللہ عواد نے وضاحت کی کہ آباد کاروں نے علی الصبح شلو نامی بستی سے لائے گئے بلڈوزر کے ہمراہ السھل کے علاقے پر دھاوا بولا، انہوں نے زرعی زمینوں کو روند ڈالا اور کئی سالوں سے لگی ہوئی زیتون کی پھلدار اشجار کو جڑوں سے اکھاڑ دیا، یہ درخت قصبے کے خاندانوں کی ملکیت تھے اور تقریبا 50 دونم کے رقبے پر پھیلے ہوئے تھے۔
عواد نے اشارہ کیا کہ السھل کا علاقہ گذشتہ تین سالوں سے آباد کاری کے بڑھتے ہوئے حملوں کی زد میں ہے، جس کے دوران کسانوں کو ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روکا جاتا ہے اور بار بار درخت اکھاڑنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران کسی بھی سرکاری فوجی حکم نامے یا زمین ضبط کرنے کے رسمی طریقہ کار کے بغیر ہی آباد کاروں نے تقریبا 25 ہزار زیتون کے درخت اکھاڑ پھینکے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یہ علاقہ، جو قصبے کے اہم ترین زرعی ذرائع میں سے ایک ہے اور تقریبا 6 ہزار دونم پر محیط ہے، اس کا ایک بڑا حصہ روزانہ کی بنیاد پر حملوں کا شکار رہتا ہے، جس سے مقامی باشندوں کے ذرائع معاش کو خطرات لاحق ہیں اور انہیں اپنی زمینوں کو آباد کرنے سے روکا جا رہا ہے۔
عواد نے سرکاری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ترمسعیا کے میدانوں میں ہونے والے اس قتل عام کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔
اس سے قبل 26 اپریل سنہ 2026ء کو بھی عادی عاد نامی بستی سے آنے والے غاصب آباد کاروں نے ترمسعیا کی زمینوں پر زیتون کے تقریبا 400 درخت کاٹ دیے تھے۔
مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی افواج اور انتہا پسند آباد کاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں دیوار و بستی مخالف مزاحمتی کمیشن نے گذشتہ مارچ کے مہینے میں 1819 حملے ریکارڈ کیے ہیں۔
سرکاری فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج اور غاصب آباد کاروں کی سفاکیت کے نتیجے میں کم از کم 1155 افراد شہید اور تقریبا 11 ہزار 750 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ تقریبا 22 ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔


