طبی عملے کے تحفظ کا عالمی فیصلہ دس برس گزرنے کے باوجود بے اثر: اطباء بلا حدود

0
10

مرکزاطلاعات فلسطین

بین الاقوامی طبی تنظیم اطباء بلا حدود نے طبی تنصیبات اور شعبہ صحت سے وابستہ کارکنوں پر جاری حملوں کے حوالے سے سخت خبردار کیا ہے، حالانکہ اقوام متحدہ کی امن کونسل کی جانب سے قرارداد نمبر 2286 کو منظور ہوئے 10 برس بیت چکے ہیں، جس میں جنگ زدہ علاقوں میں طبی عملے اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر زور دیا گیا تھا۔

تنظیم کی جانب سے یہ انتباہ اتوار کے روز 3 مئی سنہ 2016ء کو اس قرارداد کی منظوری کی دسویں برسی کے موقع پر سامنے آیا ہے، جس پر 80 سے زائد ممالک نے دستخط کیے تھے۔ اب ان وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے کے لیے نئی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

دس سال بغیر تحفظ کے: طبی ٹیمیں خالی الفاظ نہیں بلکہ عمل کی مستحق ہیں کے عنوان سے جاری بیان میں تنظیم کے بین الاقوامی صدر جافید عبد المنعم نے کہا کہ طبی عملے کو نشانہ بنانا جو کبھی ایک استثنائی بات سمجھی جاتی تھی، آج ایک عام سی بات بن چکی ہے، انہوں نے جنگی علاقوں میں ان کے تحفظ کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کی طرف اشارہ کیا۔

عبد المنعم نے مزید کہا کہ جن ممالک نے صحت کی دیکھ بھال کے تحفظ کا عہد کیا تھا، انہیں اب بہانوں کے پیچھے چھپنا اور ایک دوسرے پر الزامات تراشی بند کرنی چاہیے اور حقیقی اقدامات کا آغاز کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کا اطلاق باتوں سے نہیں بلکہ افعال سے ہونا چاہیے۔

تنظیم نے وضاحت کی کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی کارکنوں پر حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس حوالے سے جوابدہی کا مکمل فقدان ہے۔ اکثر اوقات ملزم ممالک یا تو ان واقعات سے انکار کرتے ہیں یا اسے غلطی قرار دیتے ہیں، یا پھر نشانہ بننے والے اداروں کے حفاظتی استحقاق پر ہی سوال اٹھا دیتے ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ ان حملوں کے اثرات صرف جانی نقصان تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے نتیجے میں پورا معاشرہ زندگی بچانے والی طبی سہولیات سے محروم ہو جاتا ہے، کیونکہ بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو جاتا ہے یا سکیورٹی خدشات کی بنا پر انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو اپنا کام معطل کرنا پڑتا ہے۔

اس تناظر میں، غزہ کی پٹی صحت کے نظام کو نشانہ بنانے کے اثرات کی ایک بھیانک مثال بن کر ابھری ہے۔ اپریل سنہ 2026ء کے طبی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کا تقریبا 90 فیصد حصہ تباہی یا جزوی نقصان کا شکار ہو چکا ہے۔ ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت اور ماہرانہ طبی خدمات کے مکمل خاتمے کے باعث اکثر ہسپتال سروس سے باہر ہو چکے ہیں یا انتہائی محدود صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

غزہ میں طبی عملہ غیر معمولی دباؤ اور تھکن کا شکار ہے، کیونکہ انہیں مسلسل براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے اور طبی مراکز تک رسائی انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔ ان حالات نے طبی بحران کو سنگین تر کر دیا ہے اور علاج نہ ملنے کی وجہ سے اموات کی شرح میں ہولناک اضافہ ہوا ہے۔

اطباء بلا حدود نے بتایا کہ ان کی ٹیمیں فلسطین، لبنان، سوڈان، یوکرین اور میانمار سمیت 70 سے زائد ممالک میں کام کر رہی ہیں۔ تنظیم نے تصدیق کی کہ سنہ 2016ء سے اب تک 15 مختلف واقعات میں ان کے 21 ارکان دوران ڈیوٹی شہید ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق، صرف سنہ 2025ء کے دوران طبی مراکز پر 1,348 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن کے نتیجے میں 1,981 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کرے، جنگ زدہ علاقوں میں طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور سزا سے بچنے کے اس کلچر کا خاتمہ کرے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں شعبہ صحت کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔