جنوبی لبنان میں قابض اسرائیل کے ٹھکانوں پر حزب اللہ کے تابڑ توڑ حملے

0
6

مرکزاطلاعات فلسطین

لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جنوبی لبنان کے قصبے رشاف میں قابض اسرائیلی فوجیوں اور ان کی فوجی گاڑیوں کے اجتماعات پر دو کاری ضربیں لگانے کا اعلان کیا ہے۔

حزب اللہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ حملے لبنان اور اس کے غیور عوام کے دفاع اور قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دشمن کی جانب سے جنوبی لبنان کے دیہاتوں پر کی جانے والی سفاکیت کے نتیجے میں متعدد شہری جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور کئی زخمی ہوئے ہیں، جس کا بدلہ لینا ناگزیر تھا۔

بیان کے مطابق مزاحمتی ونگ کے مجاہدین نے میزائلوں اور توپ خانے کے گولوں سے قصبہ رشاف میں قابض اسرائیلی فوج کے دو بڑے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، تاہم حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب عبرانی ذرائع نے ہفتہ کے روز اعتراف کیا ہے کہ لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد کے قریب واقع بستی شلومی میں حزب اللہ کے ایک خودکش ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم دو اسرائیلی آباد کار زخمی ہوئے ہیں۔

صفا ایجنسی کے مطابق عبرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ بستی میں بارود سے لدے ڈرون کے گرنے اور زوردار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ کارروائیاں شمالی محاذ پر بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کا حصہ ہیں، جہاں حزب اللہ نے قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور سفاکیت کے جواب میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال تیز کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ قابض اسرائیل گذشتہ 2 مارچ سے لبنان پر وسیع پیمانے پر جارحیت مسلط کیے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں تازہ ترین لبنانی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2759 افراد شہید اور 8512 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 1.6 ملین سے زائد افراد کو جبری ہجرت پر مجبور کیا گیا ہے۔

یہ تازہ حملہ قابض اسرائیل کی جانب سے اس سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو گذشتہ 17 اپریل کو 10 دن کے لیے نافذ ہوا تھا اور بعد ازاں اسے 17 مئی سنہ 2026ء تک بڑھا دیا گیا تھا۔

سیز فائر معاہدے میں ایک ایسی شق شامل ہے جسے قابض اسرائیل اپنے حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس شق کے تحت دشمن ریاست یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اسے کسی بھی وقت مبینہ دفاع کے نام پر کارروائی کا حق حاصل ہے، اور دشمن اسی کی آڑ میں سیز فائر کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔

قابض اسرائیل نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر گذشتہ کئی دہائیوں سے قبضہ کر رکھا ہے، جبکہ بعض علاقے سنہ 2023ء اور سنہ 2024ء کی جنگ کے دوران ہتھیا لیے گئے تھے۔ موجودہ جارحیت کے دوران دشمن کی فوجیں جنوبی سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر اندر تک دراندازی کر چکی ہیں۔