مغربی کنارے میں سنہ 2025ء سے اب تک 40 ہزار فلسطینیوں کی جبری بے دخلی

0
4

مرکزاطلاعات فلسطین

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کے نتیجے میں مغربی کنارے میں ہزاروں شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔

اقوامی متحدہ کے عہدیدار نے آج ہفتہ کے روز جاری کردہ ایک پریس بیان میں وضاحت کی ہے کہ سنہ 2025ء کے آغاز سے اب تک لگ بھگ 40 ہزار فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے زبردستی نکال دیا گیا ہے، جو ان پر ڈالے گئے شدید دباؤ اور گھروں کی مسماری کی بڑھتی ہوئی لہر کا نتیجہ ہے۔

رواں ماہ مئی کے پہلے ہفتے میں فلسطینی وجود کو مٹانے کی صہیونی کارروائیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی، جس کے دوران عالمی ادارے نے مزید 42 شہریوں کی جبری نقل مکانی کو دستاویزی شکل دی ہے۔ اس مختصر عرصے میں بے گھر ہونے والوں میں 24 بچے بھی شامل ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فلسطینی خاندانوں کو دہشت زدہ کرنے اور ان کے سماجی و معاشی استحکام کو تباہ کرنے کی منظم پالیسی کے تحت کمزور ترین طبقات کو براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں مسلح آباد کاروں کے حملے روزمرہ کا ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں، اور یہ حملے قابض اسرائیلی فوج کی براہ راست سرپرستی اور تحفظ میں کیے جاتے ہیں۔ ان مظالم میں املاک کی توڑ پھوڑ اور جسمانی تشدد سے لے کر ان مکانات اور حیاتیاتی تنصیبات کی مسماری تک شامل ہے جن پر فلسطینی خاندانوں کی بنیادی زندگی اور معاش کا انحصار ہے۔

فرحان حق نے اپنے اخباری بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام اقدامات ایک تزویراتی منصوبے کا حصہ ہیں جس کے ذریعے فلسطینیوں کو اس علاقے کے اصل باشندوں کی حیثیت سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ مقبوضہ علاقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی حقائق کو تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل ان بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے جو فوجی قبضے کے تحت رہنے والی آبادی کی جبری منتقلی کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں۔