حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ کی جانب سے "بین الاقوامی تنظیموں کی رجسٹریشن کے قانون” کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کرنا اس بات کا نیا ثبوت ہے کہ اسرائیلی عدالتی نظام بھی فلسطینی عوام پر مسلط کی گئی فاقہ کشی کی پالیسیوں میں برابر کا شریک ہے، اور یہ انسانی امداد فراہم کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے کام میں رکاوٹ ڈال رہا ہے ۔
بدھ کے روز ایک پریس ریلیز میں حماس نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کی اجازت دینا اور اسے زبردستی لاگو کرنا ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کو "تباہ کن” انسانی حالات کا سامنا ہے ۔ حماس نے خبردار کیا کہ اس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو جائے گا اور امدادی اداروں کا کام محدود ہو کر رہ جائے گا ۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ 20 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس قانون اور فاشسٹ اقدام کو مسترد کرتے ہوئے جس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں، اب اسے عملی اقدامات میں بدلنے کی ضرورت ہے، تاکہ جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت کو اسے روکنے پر مجبور کیا جا سکے اور امدادی اداروں کو مکمل آزادی کے ساتھ فلسطینی عوام کی بحالی اور امداد کے پروگراموں پر کام کرنے کی اجازت مل سکے ۔ حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بیانات کو عملی شکل دے تاکہ امدادی پروگراموں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے اور فلسطینی عوام کی بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کو پورا کیا جا سکے ۔
حماس نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ ممالک نے اسرائیل کے خلاف اقدامات شروع کیے ہیں، لیکن وہ "ناکافی” ہیں، اس لیے عالمی برادری کو مل کر اجتماعی طور پر حرکت میں آنا چاہیے ۔
(فلسطین آن لائن، 10/6/2026) ۔


