حماس کی قیادت پر یورپی یونین کے ممالک کی طرف سے پابندیوں پابندیوں کی شدید مذمت

0
0

مرکز اطلاعات فلسطین

اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے یورپی یونین کی کونسل کی جانب سے حماس اور جہاد اسلامی کےقائدین پر عائد پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے اور ان کے متعدد سیاسی رہنماؤں کو اپنی فہرستوں میں شامل کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ حماس نے اسے ایک ظالمانہ اور قابض اسرائیل کے بیانیے کی مکمل حمایت پر مبنی فیصلہ قرار دیا ہے جو فلسطینی مسئلے سے نمٹنے میں دہرے معیار کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

حماس نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قابض اسرائیل کی حکومت ہمارے عوام کے خلاف نسل کشی، بھوک سے مارنے اور جبری بے دخلی کے جرائم کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہے اور سیز فائر کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف یورپی یونین بین الاقوامی قانون کی ان دستاویزی خلاف ورزیوں سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے اور ان سیاسی رہنماؤں کو سزا دینے کا انتخاب کر رہی ہے جو اپنے عوام کے جائز حقوق کا دفاع کر رہے ہیں۔

جماعت نے زور دیا کہ فلسطینی مزاحمت کو مجرم قرار دینے کی کوشش اس حقیقت کو نہیں بدل سکتی کہ ہمارے عوام پر غاصبانہ قبضہ ہے اور ان کی مزاحمت ایک جائز حق ہے جس کی ضمانت تمام قوانین اور انسانی اصولوں نے دی ہے۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ غاصبانہ قبضہ ہی اس تنازع کی اصل جڑ اور عدم استحکام کا منبع ہے اور پولیٹیکل بیورو کے ارکان کو نشانہ بنانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ پابندیاں قابض اسرائیل کے دباؤ کے جواب میں لگائی گئی ہیں اور ان کی بنیاد انصاف کے معیارات پر نہیں ہے۔

حماس نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی متعصبانہ پالیسیوں پر نظرثانی کرے، قابض اسرائیل کو سیاسی چھتری فراہم کرنا بند کرے اور مظلوموں کے پیچھے پڑنے کے بجائے اس کے رہنماؤں کے احتساب کے لیے کام کرے۔ نے عزم ظاہر کیا کہ یہ اقدامات ہماری فلسطینی عوام کے ارادوں اور ان کے جائز قومی حقوق پر قائم رہنے کے عزم کو کمزور نہیں کر سکیں گے، جن میں سب سے بڑھ کر آزادی، حقِ خودارادیت، غاصبانہ قبضے کا خاتمہ اور مقبوضہ بیت المقدس دارالحکومت کے ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

یورپی یونین کی کونسل نے اٹھائیس مئی کو حماس اور جہاد اسلامی تحریکوں پر پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے ارکان بھی شامل ہو سکیں۔

یہ فیصلہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے درمیان گیارہ مئی سنہ 2026ء کو ہونے والے سیاسی معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کونسل نے اپنے فیصلے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیٹیکل بیورو کے ارکان تحریک کے اندر فیصلہ سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور حماس کے عسکری ونگ کی سرگرمیوں پر بڑا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

اس فیصلے کے تحت کونسل نے حماس کے پولیٹیکل بیورو کے دس ارکان کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

ان نئے اندراجات کے ساتھ، اس فریم ورک کے تحت پابندیاں اکیس حقیقی افراد اور تین اداروں تک پھیل گئی ہیں۔

نامزد افراد پر عائد پابندیوں میں یورپی یونین کے ممالک کے سفر پر پابندی، اثاثوں اور فنڈز کو منجمد کرنا اور فہرست میں شامل افراد یا اداروں کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فنڈز یا اقتصادی وسائل فراہم کرنے پر پابندی شامل ہے۔

یاد رہے کہ 19 جنوری سنہ 2024ء کو یورپی یونین کی کونسل نے پابندیوں کا ایک خصوصی فریم ورک قائم کیا تھا جس کا مقصد اس کے بقول کسی بھی ایسے شخص یا ادارے کا احتساب کرنا ہے جو ان پرتشدد کارروائیوں کی حمایت، سہولت کاری یا انہیں ممکن بناتا ہے جنہیں برسلز حماس یا فلسطینی تحریکِ جہادِ اسلامی سے منسوب کرتا ہے۔

کونسل نے واضح کیا کہ یہ تعزیری نظام نام نہاد دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے متعلق یورپی یونین کے سنہ 2001ء کے مشترکہ موقف کے تحت دونوں تحریکوں پر عائد گذشتہ پابندیوں کے اقدامات کو پورا کرتا ہے۔

اکیس اور بائیس مارچ سنہ 2024ء کو جاری ہونے والے اپنے نتائج میں، یورپی کونسل نے یورپی یونین کی کونسل پر زور دیا تھا کہ وہ حماس تحریک سے متعلق اضافی پابندیوں کی منظوری کے کام کو تیز کرے۔

اٹھائیس جون سنہ 2024ء کو کونسل نے چھ افراد اور تین اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا، جس سے اس وقت تعداد بارہ افراد اور تین اداروں تک پہنچ گئی تھی۔

جنوری سنہ 2026ء میں کونسل نے ان پابندیوں کے اقدامات کی مدت میں مزید ایک سال کے لیے بیس جنوری سنہ 2027ء تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔