مرکز اطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی کے جنوب میں زخموں سے چور چور شہر خان یونس کا ایک مرکزی چوراہا۔ یہ محض ایک چوراہا نہیں، بلکہ غاصب صہیونی دشمن کی سفاکیت کا نوحہ سناتی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا وہ مقتل ہے جہاں زندگی اور موت کا ہجوم ہر پل رواں دواں رہتا ہے۔ تپتی سڑکوں پر رینگتی گاڑیاں، کٹی پھٹی سڑکوں پر بوجھ کھینچتی ریڑھیاں اور اپنے وجود کی بقا کے لیے سہمے سہمے قدم اٹھاتے مجبور فلسطینی شہری۔
اس بھیڑ کے عین وسط میں ایک ٹریفک پولیس کا اہلکار کھڑا ہے۔ وہ ہجوم کو چیر کر گزرنے والی کسی ایمبولینس کو راستہ دینے کے لیے اپنا نحیف مگر پرعزم ہاتھ ہوا میں بلند کرتا ہے اور پھر اگلے ہی لمحے اس کی پتھرائی ہوئی نگاہیں تڑپ کر آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔ یہاں غزہ کی مٹی پر کھڑے انسانوں کے لیے آسمان محض بادلوں کا مسکن نہیں، بلکہ موت کا ایک مہیب سائبان بن چکا ہے۔ شہر کے ماتھے پر غاصب دشمن کے موت برساتنے والے ڈرون طیارے مسلسل منڈلا رہے ہیں، جن کی دل دوز غراہٹ اب غزہ کے باسیوں کی سانسوں کا حصہ بن چکی ہے۔ سڑک پر چلتا ہر انسان اب کسی بھی اچانک آواز پر خود بخود اپنا سر اٹھا لیتا ہے، گویا آسمان کی وحشتوں کا پہرا دینا ان کے اعصاب کا ایک ایسا ردعمل بن چکا ہے جس کے لیے سوچنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔
ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو جانے والے غزہ کے ان مخدوش گوشوں میں اب اس ٹریفک پولیس اہلکار کا منصب محض گاڑیوں کی آمد و رفت کو سنبھالنا نہیں رہا۔ یہ تو ہر روز مقتل میں اترنے اور شہادت کو گلے لگانے کا ایک پرخطر سفر ہے، جہاں یہ سرفروش اہلکار صہیونی جارحیت، ابتر تباہی اور لامتناہی ازدحام کے اس بھیانک دور میں بھی سڑکوں پر زندگی کی رمق اور کم از کم نظم و ضبط برقرار رکھنے کی آخری حد تک کوشش کر رہے ہیں۔
وہ چوراہا جہاں سکون کی موت ہو چکی ہے
سحر کے نمودار ہوتے ہی خان یونس کی زخمی سڑکوں پر سسکتی ہوئی زندگی انگڑائی لینے لگتی ہے۔ سڑکوں کے دونوں اطراف ملبے اور انسانی بستیوں کے مٹتے ہوئے نام و نشان کے مہیب ڈھیر ہیں۔ ٹریفک کے اشارے غاصب دشمن کی بمباری کی نذر ہو کر کب کے دم توڑ چکے ہیں اور مٹیالے راستوں پر گاڑیاں رینگ رینگ کر اپنی منزل ڈھونڈتی ہیں۔
اس قیامت خیز منظرنامے کے بیچوں بیچ "ابو محمد” کھڑے ہیں۔ انہوں نے بارود کے اس ماحول میں اپنی شناخت کو چھپانے کے لیے صرف اپنے پہلے نام پر ہی اقتفا کیا۔ وہ کئی گھنٹوں سے پیروں میں پڑنے والے چھالوں اور سینے میں چھپے درد کے باوجود اپنے پوائنٹ پر چٹان کی طرح جمانے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔
وہ بوجھل دل کے ساتھ ہمارے نامہ نگار کو اپنے جذبات سے آگاہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "غاصب دشمن کی اس مسلط کردہ جنگ سے پہلے ہماری ڈیوٹی صرف ٹریفک کو رواں دواں رکھنا تھی، لیکن آج ہم پر فلسطینی نصب العین کا ایک بھاری بوجھ ہے۔ آج ہماری ذمہ داریاں اس حد سے کہیں سوا ہیں۔ کبھی ہم صہیونی درندگی سے اپنی جانیں بچا کر بھاگنے والے بے خانماں پناہ گزینوں کے قافلوں کو راستہ دیتے ہیں، کبھی مظلوموں کے لہو سے بھری ایمبولینسوں کے لیے راستے کی رکاوٹیں ہٹاتے ہیں اور کبھی تباہ حال سڑکوں پر تڑپتے انسانوں کو دشمن کی تازہ ترین بمباری کے قریبی مقتلوں سے دور بھگانے کی کوشش کرتے ہیں”۔
جملہ ادھورا چھوٹ جاتا ہے۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے رکتے ہیں، ایک گہری سانس ہوا کے سپرد کرتے ہیں اور اگلا لفظ بولنے سے پہلے حسرت و یاس سے لبریز نظروں سے آسمان کی وسعتوں کو تکتے ہیں۔ "اس مٹی پر کام کرتے ہوئے جو چیز سائے کی طرح ہمارے ساتھ رہتی ہے، وہ ان قاتل طیاروں کی مہیب آواز ہے۔ جب آپ گاڑیوں کے ہجوم میں کھڑے موت کے اس شور کو سنتے ہیں، تو آپ کے دل کا ایک حصہ ہمیشہ اوپر لٹکا رہتا ہے، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ قابض اسرائیلی وحشت کس پل آپ کو خاک و خون میں ملا دے”۔
ان کی آنکھوں میں اپنے وطن کے لیے مر مٹنے کا عزم چمکتا ہے جب وہ بتاتے ہیں کہ بعض اوقات جب یہ طیارے بالکل سروں پر آ کر منڈلانے لگتے ہیں، تو چند لمحوں کے لیے انہیں چوراہا چھوڑنا پڑتا ہے، مگر جیسے ہی موت کا وہ سایہ ذرا دور ہوتا ہے، وہ فوراً اپنے اسی مخدوش پوائنٹ پر لوٹ آتے ہیں۔
"ہمیں یہاں کھڑا رہنا ہے کیونکہ اس کا کوئی متبادل نہیں۔ ان سسکتے ہوئے مجبور لوگوں کو اس قیامت کے عالم میں کسی کا سہارا تو چاہیے”۔
موت کے سائے میں فرض کا سجدہ
گذشتہ بھیانک مہینوں کے دوران غزہ کی پٹی میں قابض صہیونی فوج نے پولیس چوکیاں، ان کے دفاتر اور میدانِ عمل میں موجود ان نہتے سپاہیوں کو بارہا اپنی سفاکیت کا نشانہ بنایا ہے۔ دشمن کی ان سازشوں نے سڑکوں پر فرض نبھاتے ان جوانوں کی زندگیوں کو خطرات کے مہیب جہنم میں دھکیل دیا ہے۔
سرکاری تپش زدہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک، وطن کی حفاظت اور خدمت کے اس مقدس مشن میں وزارت داخلہ کے کم از کم 46 سرفروش اہلکار اور افسران جامِ شہادت نوش کر کے مٹی کا رزق بن چکے ہیں۔
خان یونس کے تپتے میدان میں موجود ایک فیلڈ افسر نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں کہاکہ "ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ان سڑکوں پر قدم رکھنا موت کے منہ میں جانے کے مترادف ہے۔ ڈیوٹی پر نکلنے والا ہمارا ہر جوان اپنے کفن کی خوشبو سونگھ کر نکلتا ہے۔ لیکن اگر ہم نے ان بے بس لوگوں کو ان مخدوش سڑکوں پر تنہا چھوڑ دیا، تو افراتفری کا ایک ایسا طوفان آئے گا جو غاصب دشمن کے مظالم سے زیادہ ہمارے لوگوں کو کچل دے گا”۔
وہ اپنے کپکپاتے ہونٹوں کو بھینچتے ہوئے کہتے ہیں "ہمیں یہاں صرف ٹریفک کا پہرا نہیں دینا بلکہ اکھڑتی ہوئی سانسوں کو جوڑنا ہے۔ ہم ملبے تلے دبے راستوں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہیں خون آلود ایمبولینسوں کو راستہ دیتے ہیں اور اس بربریت کے دور میں تباہ شدہ سڑکوں پر رِستے ہوئے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں”۔
انہوں نے نم آلود آنکھوں کے ساتھ اس المیے کا ذکر کیا کہ گذشتہ دنوں اپنے جگر گوشوں اور پیارے ساتھیوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے قبروں میں اتارنے کے صدمے نے پوری پولیس فورس کی روح کو زخمی کر دیا ہے، لیکن ان لاشوں نے ان کے حوصلوں کو توڑا نہیں ہے۔ "خوف ایک انسانی جبلت ہے، وہ ہمارے اندر بھی ہے، لیکن اس پاک مٹی پر اپنے فرض کا سجدہ کبھی قضا نہیں ہو سکتا”۔
اجڑے ہوئے گھروں میں بچھا طویل انتظار
جنوبی خان یونس کے ایک نیم مسمار اور بارود کی بو سے بسے ہوئے مکان کے اندھیرے گوشے میں ٹریفک پولیس کے ایک نوجوان اہلکار کے بوڑھے والد اپنا لرزتا ہوا موبائل فون ہاتھوں میں تھامے بیٹھے ہیں۔ ان کی بوڑھی آنکھیں سکرین پر جمی ہیں اور وہ تسبیح کے دانوں کی طرح وقتاً فوقتاً اپنے بیٹے کا نمبر ملا رہے ہیں۔
وہ ضعیف العمر باپ ایک گہری آہ بھر کر کہتا ہے "جس لمحے میرا بچہ اس چوکھٹ سے باہر قدم رکھتا ہے، ہمارے گھر میں کرب کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہم ٹیلی ویژن پر نظریں جمائے رکھتے ہیں اور جیسے ہی کہیں قریب سے کسی دھماکے کی لرزہ خیز آواز آتی ہے، ہمارا دل حلق کو آتا ہے اور ہم دیوانہ وار اس کا نمبر ملانے لگتے ہیں”۔
موبائل کی نیلی روشنی میں ان کے چہرے کی جھریاں مزید گہری لگتی ہیں کہ "کبھی کبھی وہ ڈیوٹی کی مصروفیات یا سائرن کے شور میں فون نہیں اٹھا پاتا اور وہ چند منٹ ہمارے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتے۔ ہماری سانسیں اس وقت تک بحال نہیں ہوتیں جب تک وہ شام ڈھلے اس ٹوٹے ہوئے مکان کی دہلیز پر سلامت واپس نہ آ جائے”۔
غزہ کے دیگر ہزاروں مظلوم خاندانوں کی طرح، ان پولیس اہلکاروں کے پیارے بھی ہر روز دوہری ذہنی نسل کشی اور اذیت کے دور سے گزر رہے ہیں؛ ایک طرف غاصب دشمن کی بمباری کا خوف اور دوسری طرف میدانِ کارزار میں موجود اپنے جگر گوشوں کی واپسی کا جان لیوا انتظار۔
وہ وجود جو لٹی ہوئی بستی کو جینے کا حوصلہ دیتا ہے
ناصر ہسپتال کے قریبی چوراہے پر، جہاں فضا میں اب بھی خون اور ادویات کی ملی جلی بو رچی ہوئی ہے، ایک ٹیکسی ڈرائیور یوسف ابو سرور اپنی گاڑی میں سواریوں کو بٹھانے کے لیے بے چین کھڑے ہیں۔
وہ دکھی لہجے میں کہتے ہیں کہ غاصب دشمن کی اس درندگی کے دور میں ان پولیس اہلکاروں کا سڑکوں پر کھڑا ہونا ہی ہمارے لیے جینے کی سب سے بڑی امید بن گیا ہے۔ "آپ دیکھیے، سڑکوں کا کیا حال کر دیا گیا ہے، ہر طرف ملبہ ہے، تنگی ہے، ہاتھ گاڑیوں اور پناہ گزینوں کا سیلاب ہے۔ ایسے میں اگر یہ جوان چوراہے پر نہ ہوں تو زندگی بالکل مفلوج ہو جائے”۔
ان کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو چھلک پڑتے ہیں کہ "میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب بمباری ہو رہی ہوتی ہے، تب بھی یہ جوان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر زخمیوں کی گاڑیوں کو راستہ دلانے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ حالات چاہے جتنے بھی بھیانک ہوں، ان کی وردی کا یہ رنگ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ غزہ ابھی مرا نہیں ہے، ابھی سب کچھ دشمن کے قبضے میں نہیں گیا”۔
ان تمام تر روح فرسا حالات غاصب دشمن کے ظلم و ستم اور نسل کشی کے خونی معرکوں کے باوجود، غزہ کا وہ ٹریفک پولیس اہلکار اپنی جگہ پر ایک لازوال داستان بن کر مستعد کھڑا ہے۔ وہ اپنا ہاتھ اٹھا کر سڑک پر موجود زندگی کے کارواں کو راستہ دکھاتا ہے، لوگوں کا حوصلہ بندھاتا ہے اور ہر گزرتے لمحے کے بعد اپنی نم آلود آنکھیں دوبارہ اسی ظالم آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے۔
وہ ایک ایسے شہر میں راستوں کو آسان بنانے کی سرفروشانہ جدوجہد کر رہا ہے جہاں اب صرف سڑکیں ہی ٹوٹ کر بکھر نہیں چکیں، بلکہ زندگی کا پورا راستہ ہی صدموں سے چور اور کٹھن ہو چکا ہے۔


