
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج نے اپنی سرکاری بیانیے کی ازسرنو تشکیل اور عسکری یادداشتوں کو سیاسی شناخت کے ایک بنیادی عنصر کے طور پر راسخ کرنے کے لیے اپنی حدود سے باہر کی گئی ایک پرانی کارروائی کو ایک بار پھر تازہ کیا ہے۔ ان یادوں کو سکیورٹی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ اس کے قانونی اور سیاسی تنازعات اور یکطرفہ بیانیے پر انحصار کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ پیر کے روز بیروت کی بندرگاہ پر سنہ 1948ء کے اواخر میں کی گئی ایک خفیہ کارروائی کا تذکرہ کیا جس میں وہاں لنگر انداز ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کارروائی کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ مذکورہ جہاز کو جنگ کے دوران مصری فوج کے بحری بیڑے میں شامل ہونے سے روکنا مقصود تھا۔
یہ تفصیلات اسرائیلی فوج کی جانب سے نام نہاد یوم یادگار کے موقع پر شائع کردہ مواد میں سامنے لائی گئی ہیں، جس میں "آپریشن ڈیوڈ” نامی اس کارروائی کی جزئیات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن بحریہ اور "مستعربین” یونٹ کے اشتراک سے اس وقت انجام دیا گیا جب صہیونی دہشت گرد گروہوں کو باقاعدہ فوج کی شکل میں ضم کر دیا گیا تھا۔
اسرائیلی عسکری ادارے کی جانب سے ماضی کی کارروائیوں کو کریدنے اور انہیں عسکری و سکیورٹی فتوحات کے طور پر پیش کرنے کا مقصد ہر سال یادگاری تقریبات میں ایک مخصوص سرکاری بیانیہ تیار کرنا ہوتا ہے، جس میں اکثر آزاد ذرائع یا مخالف بیانیے کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہوتا۔
اسرائیلی دعوے کے مطابق ستمبر سنہ 1948ء میں "ایگریس” نامی ایک بحری جہاز کے بیروت بندرگاہ پر پہنچنے کی انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی تھیں۔ قابض فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز پہلے ایڈولف ہٹلر اور سینئر نازی حکام کے استعمال میں رہا تھا، جس پر دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی بحریہ نے قبضہ کر لیا تھا۔ بعد ازاں اسے ایک لبنانی تاجر کو بیچ دیا گیا، جبکہ یہ قیاس آرائی کی گئی کہ اس وقت کے مصری بادشاہ فاروق اول اسے خرید کر ایک جنگی جہاز میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔
صہیونی بیانیے کے مطابق اس وقت کے تخمینے یہ تھے کہ اس جہاز پر توپیں نصب کر کے اسے مصری بحریہ کا حصہ بنایا جائے گا، جسے ایک خطرہ تصور کرتے ہوئے لبنانی بندرگاہ کے اندر تخریبی کارروائی کے ذریعے "ناکام” بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس حوالے سے اسرائیلی فوج نے انٹیلی جنس یونٹ کی تاریخ کے ایک محقق کے حوالے سے بتایا کہ "مستعربین” کے ارکان نے بیروت کے اندر مقامی ماحول میں گھل مل کر اس جہاز کے بارے میں معلومات جمع کیں۔ انہوں نے سویلین لبادے میں بندرگاہ کی تصاویر بنائیں، نقشے تیار کیے اور مقامی ذرائع سے رابطہ کر کے تفصیلی ڈیٹا حاصل کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کی ذمہ داری ایک ایسے اہلکار کو دی گئی جسے غوطہ خوری اور دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ وہ رات کے اندھیرے میں تیرتے ہوئے جہاز تک پہنچا اور اس کے ڈھانچے کے ساتھ چار بارودی سرنگیں نصب کر کے بحفاظت نکل آیا۔
صہیونی دعوؤں کے مطابق کیمیائی تعامل پر مبنی تاخیری میکانزم کی وجہ سے دھماکے فوراً نہیں ہوئے بلکہ کچھ دیر بعد ہوئے، جس سے جہاز کو اتنا نقصان پہنچا کہ وہ سروس سے باہر ہو گیا۔
سرکاری بیانیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاز کی مرمت کی کوششیں ناکام رہیں اور بعد ازاں اسے فروخت کے لیے امریکہ منتقل کر دیا گیا جہاں بالآخر اسے توڑ دیا گیا۔ قابض فوج اسے اس دور کے ایک "ممکنہ خطرے” کے خاتمے سے تعبیر کرتی ہے۔
ایک وسیع تناظر میں قابض فوج نے "مستعربین” یونٹ کے ارتقاء کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس کی بنیاد برطانوی انتداب کے دور میں "بلماح” گروہ کی قیادت کے فیصلے پر رکھی گئی تھی، جس نے عرب معاشروں کے اندر سے معلومات جمع کرنے کے لیے "عربی سیکشن” قائم کیا تھا۔
سنہ 1948ء میں "بلماح” کو اسرائیلی فوج میں ضم کرنے کے بعد اس یونٹ کو "انٹیلی جنس 18” کا نام دے کر انٹیلی جنس سسٹم کا حصہ بنا دیا گیا۔
قابض فوج کے مطابق اس یونٹ کے ارکان تاریخی فلسطین اور لبنان، شام و عراق سمیت کئی عرب ممالک میں سرگرم رہے، جہاں وہ مقامی معاشروں میں جذب ہو کر جاسوسی اور معلومات جمع کرنے کے فرائض انجام دیتے رہے۔
رپورٹ میں مستعربین کے اس کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے برطانوی انتداب کے دور میں یہودیوں کو سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں اسمگل کرنے، ایجنٹوں کے نیٹ ورک بنانے اور خفیہ مشن انجام دینے میں ادا کیا، جسے صہیونی عسکری ادارہ اپنی نو آموز ریاست کی "انٹیلی جنس صلاحیت” سازی کی کوششیں قرار دیتا ہے۔

