اطالوی حکومت کا قابض اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کا معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

0
0

مرکزاطلاعات فلسطین

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے قابض اسرائیل کے ساتھ اٹلی کے دفاعی معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں فوجی ساز و سامان کا تبادلہ اور ٹیکنالوجی کی تحقیق شامل تھی۔ یہ معلومات مختلف عالمی خبر رساں ایجنسیوں نے فراہم کی ہیں۔

اطالوی نیوز ایجنسی انسا کے مطابق میلونی نے ویرونا میں ایک تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت نے قابض اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قابض اسرائیل نے ایک روز قبل ہی اطالوی سفیر کو طلب کر کے اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کے ان بیانات پر احتجاج کیا تھا جن میں انہوں نے بیروت کے دورے کے دوران لبنان میں عام شہریوں پر اسرائیلی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی تھی۔

ایک اطالوی سفارتی ذریعے کے مطابق پیر کے روز سفیر کی طلبی تاجانی کے ان موقف کے پس منظر میں ہوئی جو انہوں نے ایکس پلیٹ فارم پر تحریر کیے تھے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ انہوں نے لبنان کا دورہ عام شہریوں پر ناقابل قبول اسرائیلی حملوں کے بعد اٹلی کی یکجہتی کے اظہار کے لیے کیا ہے۔

انہوں نے ایک ضروری اور مستقل سیز فائر اور لبنان و قابض اسرائیل کے درمیان مکالمے کے آغاز کی دعوت بھی دی، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی قیمت پر لبنان میں اس طرح کی کشیدگی سے بچنا ضروری ہے جیسی غزہ کی پٹی میں نسل کشی کے دوران دیکھی گئی۔

تاجانی کا دورہ بیروت، جہاں انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون اور وزیر خارجہ یوسف رجی سے ملاقات کی، ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنان پر جاری جنگ کی وجہ سے تل ابیب اور یورپی ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں اطالوی حکومت نے گذشتہ ہفتے اسرائیلی سفیر کو اس وقت بھی طلب کیا تھا جب قابض اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونيفل) کے تحت کام کرنے والے اطالوی فوجیوں کے قافلے پر وارننگ شاٹس فائر کیے تھے، جس کے نتیجے میں ایک گاڑی کو نقصان پہنچا تھا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔