صہیونی ناکہ بندی اور سخت پابندیوں کے باوجود 60 ہزارفرزندان توحید کی مسجدِ اقصی میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی

0
0

مرکز اطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے نمازیوں کی مسجدِ اقصی تک رسائی پر عائد کردہ تمام تر ظالمانہ سکیورٹی اقدامات اور کڑی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے جمعہ کے روز دسیوں ہزار فلسطینیوں نے مسجدِ اقصی مبارک اور اس کے وسیع و عریض صحنوں میں نمازِ جمعہ ادا کی۔

مقامی نامہ نگاروں نے بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور قابض اسرائیل کے زیرِ تسلط اندرونی علاقوں کے باسیوں کی بہت بڑی تعداد کی موجودگی میں لگ بھگ 60 ہزار پرعزم فلسطینیوں نے مسجدِ اقصی کے احاطے میں نمازِ جمعہ ادا کی ۔

صہیونی رکاوٹوں کے باوجود مسلمانوں کے جمِ غفیر نے نمازِ جمعہ کی ادائیگی اور مسجد کے صحنوں میں رباط (پہرا دینے) کے لیے مسجدِ اقصی کا رخ کیا۔ دوسری جانب قابض پولیس نے مسجد کے مقدس دروازوں پر اپنے سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کر دیا تھا جہاں آنے والے نمازیوں کے شناختی کارڈز کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی تھی اور ان میں سے متعدد کو داخلے سے زبردستی روک دیا گیا۔

اسی بھیانک تناظر میں قابض اسرائیل کی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کے سربراہ "رومان غوفمان” نے نمازِ جمعہ سے کچھ دیر پہلے مسجدِ اقصی سے متصل دیوار براق پر دھاوا بولا اور وہاں کھلم کھلا تلمودی و صیہونی مذہبی رسومات ادا کیں۔

یہ اشتعال انگیز واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینیوں کی جانب سے مسجدِ اقصی میں اپنی حاضری کو ہر ممکن حد تک بڑھانے اور وہاں پہنچنے کے لیے مسلسل اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ انتہا پسند "ہیکل” گروپوں کی جانب سے آنے والے دنوں میں مسجدِ اقصی پر بڑے پیمانے پر دھاوے بولنے کی ناپاک مہم کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

صہیونی دھاووں اور یلغار میں غیر مسبوق اضافہ

گذشتہ مئی کے مہینے کے دوران مسجدِ اقصی میں قابض اسرائیل کی سنگین خلاف ورزیوں اور سفاکیت میں انتہائی تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا، جس کا اندازہ مسجد پر دھاوا بولنے والے شرپسندوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس کے پاک صحنوں کے اندر کھلم کھلا تلمودی رسومات کی ادائیگی کے دائرے کو وسعت دینے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسجدِ اقصی پر غاصب اسرائیل کی خودساختہ "حاکمیت” کے جھوٹے دعووں کے تحت زمینی حقائق کو زبردستی تبدیل کرنے کی منظم کوششیں بھی جاری رہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مہینے کے دوران 7,244 غاصب یہودی آباد کاروں نے سکیورٹی فورسز کی چھتری تلے مسجدِ اقصی کی بے حرمتی کرتے ہوئے وہاں دھاوا بولا جبکہ مزید 2,690 یہودی آباد کاروں کو "سیاحت” کے جھوٹے لبادے میں مسجد کے اندر داخل کیا گیا۔ یہ سب کچھ انتہا پسند "ہیکل” گروپوں کی اس بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کے سائے میں ہو رہا ہے جس میں وہ دھاووں کو تیز کرنے، قربانیاں پیش کرنے اور تلمودی رسومات کو وسعت دینے کی مسلسل ہرزہ سرائی کر رہے ہیں۔

غاصب اسرائیل کی یہ جارحیت مسجدِ اقصی کے اندر صیہونی مذہبی رسومات کو غیر مسبوق طریقے سے علانیہ طور پر وسعت دینے تک پہنچ چکی ہے، جس کا واحد مقصد مسجد کے تاریخی و اسلامی تشخص کو تبدیل کرنا اور اس کے اندر نئے غاصبانہ انتظامات کو زبردستی مسلط کرنا ہے۔

مسجدِ اقصی پر بولے جانے والے ان بزدلانہ دھاووں میں اب اسرائیلی حکام بشمول وزراء، ارکانِ کنیسٹ (پارلیمنٹ) اور کنیسٹ کی قومی سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ کی شرکت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسجدِ اقصی المبارک کے خلاف کی جانے والی ان تمام تر سفاکانہ کارروائیوں اور سازشوں کو غاصب صہیونی حکومت کی مکمل سیاسی اور سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔