مرکزاطلاعات فلسطین
مزاحمتی سکیورٹی فورسز نے غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلح میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے اندر قابض دشمن کے کرائے کے ایجنٹوں اور گروہوں کی جانب سے تخریب کاری کی ایک مذموم کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔
تخریبی منصوبے کے حوالے سے جاری کردہ معلومات کے مطابق یہ ایجنٹ گروہ عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہسپتال پر دھاوا بولنے اور وہاں زیر علاج زخمیوں کو اغوا کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ انہیں قابض دشمن کے حوالے کیا جا سکے، جس کا انکشاف الحارس پلیٹ فارم نے کیا ہے۔
مزاحمتی سکیورٹی کے مطابق یہ تخریبی منصوبہ براہ راست قابض اسرائیل کی انٹیلی جنس (مخابرات) کی ایما پر تیار کیا گیا تھا، جہاں انٹیلی جنس افسر نے ان جرائم پیشہ گروہوں سے وعدہ کیا تھا کہ کارروائی کے دوران انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
اسی تناظر میں مزاحمتی سکیورٹی نے قابض مخابرات کے ایک ایجنٹ کی گرفتاری کا بھی انکشاف کیا ہے جس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ہسپتال میں زخمیوں کے کمروں اور حساس مقامات کی تصاویر بنائی تھیں۔
مزاحمتی سکیورٹی کے ایک کمانڈر نے ایجنٹ کی گرفتاری میں عوامی سطح پر ملنے والے تعاون کی بھرپور تعریف کی اور کہا کہ عوامی بیداری نے اس تخریبی منصوبے کو بے نقاب کرنے اور اسے ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
سکیورٹی کمانڈر نے عہد کیا کہ شہریوں کے خلاف قتل، ہراساں کرنے اور لوٹ مار کی کارروائیوں میں ملوث ایجنٹ گروہوں کا تعاقب جاری رکھا جائے گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان گروہوں نے مستقبل میں اس نوعیت کی کسی بھی کارروائی کی جرات کی تو ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
مزاحمت کا خیال ہے کہ تخریب کاری کی یہ کوشش، جسے ناکام بنا دیا گیا ہے، دراصل قابض دشمن کی جانب سے جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور غزہ کی پٹی پر دوبارہ جارحیت شروع کرنے کی مذموم کوششوں کا حصہ ہے۔


