قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں فضائی و توپ خانے کی بمباری اور فائرنگ کے ذریعے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ محاصرے کے تسلسل اور امدادی اشیاء کی آمد میں کمی نے انسانی صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق اتوار کی صبح خان یونس شہر کے جنوب میں ایک بچہ اسرائیلی بم کے ٹکڑے لگنے سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ خان یونس کے جنوبی علاقے قیزان ابو رشوان میں ایک اسرائیلی ڈرون نے بم گرایا جس کی زد میں آ کر ننھا ریاض ابو نمر شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں ناصر میڈیکل کمپلیکس میں دم توڑ گیا۔
اس سے قبل ہفتے کی دیر رات قابض اسرائیل کی فائرنگ سے دو افراد شہید ہوئے، جن میں سے ایک خان یونس کے مشرقی علاقے سطر میں نشانہ بنا جبکہ دوسرا وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں ڈرون حملے کا شکار ہوا۔ طبی ذرائع نے اناضول ایجنسی کو بتایا کہ 26 سالہ نوجوان محمد السید سلیمان سبیتان دیر البلح کے مشرقی علاقے ابراج القسطل کے قریب ڈرون حملے میں شہید ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈرون سے گرائے گئے بم نے سبیتان کو شدید زخمی کر دیا تھا، جسے دیر البلح ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ایک اور واقعے میں نوجوان عمار طلال ابو شاب خان یونس کے شمالی علاقے سطر شرقی میں قابض دشمن کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ حملے ان علاقوں میں کیے گئے جو معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی قابض فوج کی گاڑیوں نے جبالیہ کیمپ کے مشرقی محلوں اور خان یونس شہر کو نشانہ بنایا۔ غزہ شہر کے مشرقی محلے التفاح میں قابض فوج نے شدید فائرنگ کی اور شہر کے مشرقی علاقوں میں دھماکوں کے ذریعے عمارتوں کو مسمار کرنے کی کارروائیاں کیں۔ بمباری کا یہ سلسلہ شمالی غزہ کے قصبے بیت لاہیا تک بھی پھیل گیا۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل نے گذشتہ ماہ اپریل کے دوران سیز فائر معاہدے کی 377 بار خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں 111 شہری شہید اور 376 زخمی ہوئے۔ غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی کل تعداد 72,610 اور زخمیوں کی تعداد 172,448 تک پہنچ گئی ہے۔ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں 7 شہداء کی لاشیں لائی گئیں جبکہ 26 زخمی منتقل کیے گئے۔ وزارت صحت کے مطابق 11 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 830 اور زخمیوں کی تعداد 2,345 ہو چکی ہے، جبکہ ملبے تلے سے 767 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ اب بھی متعدد شہداء ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں جہاں ریسکیو ٹیمیں رسائی سے قاصر ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق سلامتی سے متعلق کابینہ "کابینہ” آج اتوار کو غزہ پر دوبارہ جنگ شروع کرنے کے امکان پر غور کرے گی، جس کا مقصد عام انتخابات کے قریب سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ حماس غیر مسلح ہونے کے معاہدے کی پابندی نہیں کر رہی، تاہم یہ بیانات خود اسرائیلی میڈیا کی ان رپورٹس کے متضاد ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ حماس نے سیز فائر کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد اور دوسرے مرحلے کے لیے اپنا جواب دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حماس نے بعض نکات پر ترامیم پیش کی ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ قابض اسرائیل سیز فائر معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے کے ٹائم فریم پر فوری اور مکمل عملدرآمد کرے۔ حماس نے ہتھیاروں کے مسئلے پر بحث کے لیے اصولی رضامندی ظاہر کی ہے لیکن اسے فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق کے حصول اور جامع سکیورٹی انتظامات سے مشروط کیا ہے۔ تحریک نے مکمل سیز فائر، مکمل اسرائیلی انخلا، تعمیر نو، بین الاقوامی افواج کی آمد اور غزہ کا انتظام ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے مطالبات دہرائے ہیں۔
قابض اسرائیل نے حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی تھی جو فروری کے آخر سے شروع ہوئی، تاہم حماس کا مطالبہ ہے کہ پہلے اسرائیل اپنے وعدے پورے کرے۔ ادھر آباد کاری کی وزیر اوریت اسٹروک نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس غیر مسلح نہ ہوئی تو چند ہفتوں میں غزہ میں دوبارہ نسل کشی شروع کر دی جائے گی۔ یہ دھمکیاں اخبار ہارٹز کے عسکری تجزیہ نگار عاموس ہاریل کے اس مضمون کے بعد سامنے آئی ہیں جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ بنجمن نیتن یاھو اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کی وجہ سے جنگ کے شعلوں کو بھڑکائے رکھنا چاہتے ہیں۔


