مرکز اطلاعات فلسطین
فلسطینی وزارت صحت نے منگل کی صبح ہلال احمر فلسطین کی ایمبولینس ٹیم کے سات ارکان کو ان کے انسانی فرائض کی انجام دہی کے دوران قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے عمل کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ ہنگامی صورتحال کے دوران طبی شعبے سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے کا ایک اور ثبوت ہے۔
وزارت نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے صلاح الدین روڈ پر کام کرنے کے دوران گرفتار کیے گئے عملے کے پانچ ارکان کو پوچھ گچھ کے بعد بعد ازاں رہا کر دیا ہے جبکہ دو ارکان بدستور قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید ہیں۔
اس کے علاوہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں آٹھ شہداء اور 34 زخمیوں کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس وقت بھی متعدد شہداء ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں کیونکہ شہری دفاع اور ایمبولینس ٹیمیں زمینی حالات کی سنگینی اور ریسکیو آپریشنز کے تعطل کی وجہ سے اب تک ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق دس اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے بعد سے اب تک کل شہداء کی تعداد 978 اور زخمیوں کی تعداد 3097 ہو گئی ہے جبکہ 782 لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والی جارحیت سے اب تک مجموعی تعداد 72 ہزار 988 شہداء اور ایک لاکھ 73 ہزار 205 زخمیوں تک پہنچ گئی ہے جو انسانی نقصانات کی وسعت اور طبی نظام پر مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
وزارت نے زیر حراست ایمبولینس ڈرائیوروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طبی عملے کو نشانہ بنانا اور ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنا بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان عوام کو طبی امداد فراہم کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے۔


