مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیل میں مسلسل جنگوں کے تباہ کن اثرات کے باعث مہنگائی کی لہر میں شدید تیزی آ گئی ہے، جس نے معیشت کے ڈھانچے پر گہرے سائے ڈال دیے ہیں۔ ایندھن، اشیائے خوردونوش اور مکانات کے کرایوں میں اضافے کی نئی لہر نے جنم لیا ہے، جو کہ مسلسل بڑھتے ہوئے افراط زر کے دباؤ اور رسد و پیداوار کے بحران کا نتیجہ ہے۔
طے شدہ شیڈول کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا، جس کے بعد پیٹرول (اوکٹان 95) کی قیمت 8.07 شیکل فی لیٹر تک پہنچ جائے گی۔ یاد رہے کہ اپریل کے آغاز میں بھی قیمتوں میں 1.03 شیکل کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد قیمتیں کئی سالوں میں پہلی بار 8 شیکل کی حد عبور کر گئی ہیں۔ یہ صورتحال توانائی کی عالمی مارکیٹ پر علاقائی تناؤ کے اثرات کی عکاس ہے۔
اندازوں کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ براہ راست اپریل کے کنزیومر پرائس انڈیکس پر اثر انداز ہوگا، جس کی رپورٹ 15 مئی کو شائع ہونی ہے۔ توقع ہے کہ اس بار مہنگائی کی شرح 1.3 سے 1.5 فیصد رہے گی، جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ 1.1 فیصد تھی۔ اسی طرح سالانہ افراط زر کی شرح 1.9 فیصد سے بڑھ کر 2.1 اور 2.3 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جو کہ بینک آف اسرائیل کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر 25 مئی کو ہونے والے اجلاس میں بینک شرح سود کو برقرار رکھنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
معاشی اشاریوں میں یہ بگاڑ ان جنگوں کے تناظر میں ہے جو قابض اسرائیل گذشتہ برسوں سے لڑ رہا ہے؛ جن میں غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ وحشیانہ جنگ، لبنان کے ساتھ کشیدگی اور ایران کے ساتھ علاقائی تناؤ شامل ہیں۔ ان جنگی حالات نے پیداواری لاگت اور نقل و حمل کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، جس سے زراعت اور توانائی جیسے اہم شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے توقع کی جا رہی ہے کہ زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ ہوگا، کیونکہ ترکیہ اور اردن سے درآمدات میں کمی آئی ہے اور یورپی متبادل ذرائع کی لاگت بہت زیادہ ہے۔ مزید برآں، لبنان کی سرحد اور غزہ کے گردونواح میں فوجی آپریشنز کے باعث مقامی زرعی پیداوار کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جہاں حکومتی کنٹرول میں آنے والی اشیاء کی قیمتیں 1 فیصد بڑھ جائیں گی۔ "تنوفا” کمپنی نے طویل المدتی دودھ اور پنیر کی قیمتوں میں 1.2 فیصد جبکہ مکھن کی قیمت میں 4.8 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح "طارہ” کمپنی نے پاس اوور کی تعطیلات اور 22 مئی کے بعد اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اوسطاً 2.3 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ "غاد” کمپنی یکم جون سے قیمتیں 1.9 فیصد بڑھا دے گی۔
دودھ سے بنی مصنوعات بنیادی ضرورت کی اشیاء ہیں، اس اضافے کا مطلب غریب خاندانوں کے ماہانہ بجٹ پر بوجھ میں درجنوں شیکل کا اضافہ ہے، جبکہ دیگر کمپنیاں بھی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 3 سے 5 فیصد اضافے کی تیاری کر رہی ہیں۔ رہائشی شعبے میں بھی مرکز کے علاقوں میں کرایوں میں 5 سے 6 فیصد اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس سے عوام کی قوت خرید مزید متاثر ہوگی۔
اگرچہ ڈالر کی قدر میں کمی سے درآمدی لاگت کم ہونی چاہیے تھی، لیکن تاجر قیمتیں کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ جنگ میں سیز فائر کے باوجود صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دوسری جانب بینکوں اور سرمایہ کاری کے اداروں نے سنہ 2026ء کے لیے افراط زر کے تخمینے کو 2.1 فیصد سے بڑھا کر 2.3 اور 2.5 فیصد کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ شرح سود بلند رہے گی اور قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔
عالمی سطح پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث توانائی کی منڈیاں غیر مستحکم ہیں، جہاں خام تیل کی قیمت دوبارہ 120 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے، جو گذشتہ ہفتوں میں 85 سے 90 ڈالر کے درمیان تھی۔ اس کا براہ راست اثر ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر پڑ رہا ہے۔ علاوہ ازیں، جنگ کے آغاز سے ہی فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ امریکہ، کینیڈا اور جاپان جیسی بین الاقوامی منزلوں کے لیے پروازیں محدود کر دی گئی ہیں۔
یہ تمام پیش رفت ایک ایسی معاشی حقیقت کی عکاس ہے جو غیر مستحکم سکیورٹی ماحول سے جڑی ہوئی ہے۔ جنگوں کے تباہ کن نتائج اور عالمی افراط زر نے مل کر اسرائیلی معیشت کو ان بڑھتے ہوئے چیلنجز کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جن کا براہ راست اثر وہاں کے باشندوں کے معیار زندگی پر پڑ رہا ہے۔


