باسل مغربی: اتوار کے روز الطیبہ کے جنوب میں، کوخاو یائیر کے علاقے میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا اور 5 اسرائیلی زخمی ہوئے، جن میں فوجی بھی شامل ہیں اور ان کے زخموں کی نوعیت مختلف ہے ۔ یہ حملہ 3 مختلف جگہوں پر اور ایک بستی کی طرف کیا گیا، اور حملہ آور، عمر یاسین، جس کا تعلق الطیبہ شہر سے تھا، شہید ہو گیا ۔ اسرائیلی پولیس کے آئی جی نے اعلان کیا کہ انویسٹی گیشن سے پتا چلا ہے کہ حملہ آور ایک ہی بندہ تھا، جبکہ اس سے پہلے اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ حملہ آور ایک سے زیادہ ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر حملہ آور کی مدد کرنے کا شک ہے ۔
اسرائیلی فوج نے اس فائرنگ کو "قومی جذبے کے تحت کیا گیا حملہ” قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا نے ابتدائی گھنٹوں میں ایک حملہ آور کے پکڑے جانے کی خبر دی تھی، اور ساتھ ہی دیگر ممکنہ مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بھی چل رہا تھا ۔
فائنل رپورٹ کے حوالے سے "نجمہ داؤد الحمراء” (اسرائیلی ایمبولینس سروس) نے کنفرم کیا کہ ان کی ٹیموں نے پانچ زخمیوں کو "مئیر” اور "بیلنسن” ہسپتالوں میں شفٹ کیا، جن میں سے دو کی حالت سیریس ہے اور تین نارمل زخمی ہیں ۔ اسرائیلی فوج نے اتوار کی شام مان لیا کہ اس حملے میں ریزرو فورس کا ایک فرسٹ سارجنٹ مارا گیا اور ایک اور ریزرو فوجی شدید زخمی ہوا ۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ مارا جانے والا فوجی "افرائیم” بریگیڈ کی ریجنل ڈیفنس فورس میں ڈیوٹی دے رہا تھا ۔
آپریشن کے بعد اسرائیلی پولیس اور "شاباک” (اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی) کی فورسز نے الطیبہ شہر پر چھاپہ مارا، جبکہ مقامی ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے شہید عمر یاسین کے گھر کی تلاشی بھی لی ۔
پولیس نے کہا: "کوخاو یائیر میں ہونے والے واقعے کی انویسٹی گیشن کے سلسلے میں، پولیس اہلکاروں نے الطیبہ میں ایک اور شخص کو گرفتار کیا ہے جس کا اس واقعے میں ہاتھ ہونے کا شک ہے،” اور مزید بتایا کہ "یہ گرفتاری اس انٹیلی جنس رپورٹ پر کی گئی کہ اس نے چھپنے کے لیے مدد مانگی تھی۔”


