
مرکزاطلاعات فلسطین
فلسطینی سینٹر فار اسرائیلی اسٹڈیز (مدار) نے سنہ 2026ء کی اپنی سالانہ تزویراتی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری مسلسل جنگوں کے تناظر میں قابض اسرائیل کے اندرونی ڈھانچے میں ہونے والی گہری تبدیلیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور سیاست، جنگ، معیشت اور معاشرت کے مستقبل کا ایک جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ بنجمن نیتن یاھو کی سربراہی میں دائیں بازو کی انتہا پسند حکومت نے سنہ 2025ء اور رواں سال کے آغاز میں ایک ایسی حکمت عملی پر کام کیا ہے جو جنگ کو ایک موقع کے طور پر استعمال کر کے قابض اسرائیل کو ایک ایسی "سپر پاور” ریاست کے روپ میں ڈھالنا چاہتی ہے جو تمام عالمی قیود سے آزاد ہو اور میدانِ جنگ و سیاست میں اپنے حقائق بزورِ شمشیر مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
رپورٹ کے مطابق اس حکمت عملی کا بنیادی محور مسئلہ فلسطین کا مکمل خاتمہ، اسرائیلی طاقت کے توازن کے مطابق خطے کی نئی نقشہ سازی اور اندرونی سیاسی نظام سے لبرل اقدار کے بچے کھچے اثرات کو مٹا کر اسے دوبارہ سے ترتیب دینا ہے۔
تاہم رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ یہ طریقہ کار جو سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والے طوفان الاقصیٰ کے بعد مزید سخت ہوا اور بعد ازاں علاقائی محاذوں تک پھیل گیا، اب ایک واضح بند گلی میں داخل ہو چکا ہے، جس کی بڑی علامت یہ ہے کہ قابض اسرائیل اپنی "اضافی طاقت” کو ایک مستحکم سیاسی کامیابی میں بدلنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔
رپورٹ مزید کہتی ہے کہ جس چیز کو "نیا اسرائیل” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے وہ کوئی تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ صرف طاقت کے اسی پرانے منطق کا وحشیانہ تسلسل ہے جس کے تمام آلات کو ان کی آخری حدوں تک دھکیل دیا گیا ہے۔
فلسطینی تناظر میں رپورٹ کا ماننا ہے کہ قابض اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں اوسلو معاہدوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اور دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کر کے جو نئے حقائق مسلط کیے ہیں، ان کا مطلب تنازع کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے "دریا سے سمندر تک” کے ایک ہی سیاسی جغرافیے میں نئے سرے سے بھڑکانا ہے، جبکہ اس دوران قابض اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ بری طرح تبا ہ ہو چکی ہے اور امریکہ جیسے مضبوط حلیف کے سیاسی میدان میں بھی اسرائیل مخالف لہریں غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہیں۔
ایران.. فوجی تصورات کا عروج اور طاقت کی حدود
رپورٹ کا ایک بڑا حصہ ایران کے خلاف حالیہ جارحیت کے تجزیے کے لیے وقف کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر اس لیے کی گئی تاکہ اس محاذ آرائی کا احاطہ کیا جا سکے جسے اسرائیلی تزویراتی سوچ کا مرکزی امتحان قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قیادت نے یہ غلط اندازہ لگایا کہ وہ سنہ 2024ء اور سنہ 2025ء کی جنگوں سے "اضافی طاقت” اور نمایاں فوجی کامیابیوں کے ساتھ نکلی ہے، جس نے اسے یہ حوصلہ دیا کہ وہ "ٹرمپ کے سنہری دور” کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قابض اسرائیل کو خطے کی واحد بالادست قوت بنا لے۔
اسی سوچ کے تحت 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی گئی جسے اسرائیلی عسکری برتری کو علاقائی سیاسی فیصلے میں بدلنے کی آخری کوشش قرار دیا گیا، مگر رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے نتائج توقعات کے بالکل برعکس نکلے اور قیادت کے دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک گہری خلیج واضح ہو گئی، جس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اسرائیلی حکمت عملی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت تو رکھتی ہے لیکن مستحکم سیاسی انتظامات مسلط کرنے سے قاصر ہے۔
"ٹرمپ کارڈ” اور اس کے اثرات
رپورٹ عالمی ماحول بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اثرات کا جائزہ لیتی ہے، جس نے بین الاقوامی قوانین کو کمزور کر کے قابض اسرائیل کو کارروائیوں کے لیے وسیع میدان فراہم کیا۔ تاہم رپورٹ بنجمن نیتن یاھو اور ٹرمپ کے گٹھ جوڑ کے مضر اثرات سے بھی خبردار کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ جو چیز قلیل مدت کے لیے طاقت کا ذریعہ لگ رہی ہے، وہ درمیانی مدت میں الٹے نتائج دے سکتی ہے۔
اس تناظر میں رپورٹ امریکہ کے اندر بڑھتے ہوئے اس تاثر کی نشاندہی کرتی ہے کہ قابض اسرائیل نے واشنطن کو ایسی جنگوں میں دھکیل دیا ہے جو امریکی ترجیحات سے میل نہیں کھاتیں، جس کے نتیجے میں امریکی عوامی حمایت میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے اور مستقبل میں اسرائیل ایک سٹریٹجک حلیف کے بجائے ایک سیاسی، سکیورٹی اور اخلاقی بوجھ کے طور پر دیکھا جانے لگے گا۔
اندرونی طور پر رپورٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سیاست میں بنجمن نیتن یاھو کے جارحانہ طریقہ کار کا کوئی حقیقی متبادل پیدا نہیں ہو سکا، بلکہ اپوزیشن بھی طاقت اور جنگ کے اسی ڈھانچے کے گرد گھوم رہی ہے۔
رپورٹ مزید کہتی ہے کہ جنگ کے گرد عوامی اتحاد، طاقت کے ذریعے فیصلے کی سوچ، غزہ کی پٹی میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کو معمول سمجھ لینا اور مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کا پھیلاؤ ایک ایسے عوامی مزاج کی عکاسی کرتا ہے جو اب حکومت سے بھی آگے نکل چکا ہے اور جس کا ماننا ہے کہ ان کی بقا دشمنوں کو کچل دینے میں ہی مضمر ہے۔ یہ مزاج بنجمن نیتن یاھو کی شخصیت سے قطع نظر جنگی اہداف کے پیچھے ایک بڑی سیاسی صف بندی کی صورت میں نظر آتا ہے۔
جنگی معیشت
معاشی لحاظ سے رپورٹ ہائی ٹیک سیکٹر کے کردار پر روشنی ڈالتی ہے جس نے جنگ کے اثرات کو جذب کر کے اسے ایک مکمل معاشی بحران بننے سے روکا۔ سنہ 2025ء کے پہلے نصف حصے میں اس شعبے کا مجموعی اسرائیلی برآمدات میں حصہ 57 فیصد رہا، جبکہ ڈیجیٹل سروسز اور سافٹ ویئر برآمدات معیشت کا انجن بنی رہیں۔
اسی کے ساتھ قابض اسرائیل نے اپنی عسکری برتری کو معاشی فوائد میں بدلنے کی کوشش کی، جہاں سنہ 2024ء میں دفاعی برآمدات 15 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں جو کہ 13 فیصد اضافہ ہے۔ فوجی طاقت اور عالمی ٹیکنالوجی کا گٹھ جوڑ گوگل اور ایمیزون جیسی کمپنیوں کے ساتھ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے معاہدوں اور فوجی آپریشنز میں مصنوعی ذہانت و ڈیٹا اینالیسس کے بڑھتے ہوئے استعمال کی صورت میں مزید گہرا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ "مدار” کی یہ سالانہ رپورٹ، جس کی ادارت محققہ ہنیدہ غانم نے کی ہے، سات بنیادی محوروں پر مشتمل ہے جس میں قابض اسرائیل اور مسئلہ فلسطین، سیاسی و جماعتی صورتحال، خارجہ تعلقات، سکیورٹی و عسکری امور، معیشت، معاشرت اور مقبوضہ فلسطین کے اندر 1948ء کے فلسطینیوں کے حالات شامل ہیں۔
اس رپورٹ کی تیاری میں اسرائیلی امور کے ماہر محققین ولید حباس، انطوان شلحت، خالد عنبتاوی، فادی نحاس، عاص اطرش، لینا دلاشہ اور رائف زریق نے حصہ لیا ہے۔

