مغربی کنارے میں صہیونی بستیاں: توسیع اور غاصبانہ قبضے کے خونی راستے

0
7

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع و عریض رقبے پر پھیلی قابض اسرائیل کی بستیاں محض رہائشی مکانات نہیں بلکہ ایک مکمل استعماری ڈھانچہ ہے جس کا مقصد جغرافیہ، آبادیاتی تناسب اور قانونی نظام کو بدل کر فلسطینی زمین پر طویل المدتی غاصبانہ قبضے کو مستحکم کرنا ہے۔ یہ بستیاں ایک سٹریٹجک منصوبے کے تحت تعمیر کی گئی ہیں جو بستیوں کے بلاکس کو بائی پاس سڑکوں اور فوجی علاقوں سے جوڑتا ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینی سرزمین الگ تھلگ جزیروں میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ توسیع کوئی اتفاقی عمل نہیں بلکہ ایک منظم سرکاری پالیسی ہے جس کے ذریعے فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں ان کی اپنی ہی زمین پر اقلیت میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مغربی کنارے کی بستیوں سے کیا مراد ہے؟

مغربی کنارے کی بستیاں وہ غیر قانونی رہائشی مراکز ہیں جو قابض اسرائیل نے سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر قائم کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ پہلے فوجی مراکز تھے جنہیں بعد میں سویلین بستیوں میں بدل دیا گیا، جبکہ دیگر کو ایک واضح سیاسی منصوبے کے تحت تعمیر کیا گیا۔ ان تسلیم شدہ بستیوں کے ساتھ ساتھ ایسی چوکیان بھی موجود ہیں جو عموماً تشدد اور طاقت کے زور پر تیزی سے قائم کی جاتی ہیں اور بعد میں قابض ریاست انہیں تحفظ اور سہولیات فراہم کر کے قانونی شکل دے دیتی ہے۔ سرکاری اسرائیلی بیانیے میں انہیں محض محلے یا قصبے کہا جاتا ہے، لیکن زمین پر یہ فلسطینی وسائل پر منظم ڈاکہ اور فلسطینی وجود کو فوجی رکاوٹوں اور دیواروں کے ذریعے محصور کرنے کا نام ہے۔

بستیوں کے منصوبے کا آغاز کیسے ہوا؟

اس استعماری منصوبے کا آغاز سنہ 1967ء میں مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے پر قبضے کے فوراً بعد ہوا، لیکن یہ محض چند انتہا پسندوں کی جذباتی لہر نہیں تھی۔ آغاز ہی سے یکے بعد دیگرے آنے والی اسرائیلی حکومتوں نے اسے ایک سٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مقصد بالکل واضح تھا: مقبوضہ زمین سے کسی بھی ممکنہ انخلاء کو روکنا اور ایک آزاد و مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنانا۔ سنہ 1970ء اور 80ء کی دہائیوں میں پہاڑوں کی چوٹیوں، مقبوضہ بیت المقدس کے اطراف اور وادی اردن میں بستیوں کی تعمیر میں تیزی لائی گئی۔ یہ مقامات اس طرح منتخب کیے گئے کہ وہ اہم راستوں کو کنٹرول کریں اور مغربی کنارے کے شمال کو جنوب سے کاٹ کر رکھ دیں۔

اوسلو معاہدے کے بعد، جس کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ اس سے بستیاں ختم ہوں گی، درحقیقت اس سیاسی عمل کی آڑ میں بستیوں کی توسیع میں مزید تیزی آئی۔ جب دنیا مذاکرات کی باتیں کر رہی تھی، صہیونی بلڈوزر خاموشی سے فلسطینی نقشہ بدل رہے تھے۔ سنہ 2024ء کے اختتام اور سنہ 2025ء کے آغاز تک کی رپورٹس کے مطابق مغربی کنارے میں تقریباً 200 سرکاری بستیاں اور 305 سے زائد چوکیاں (آؤٹ پوسٹس) موجود ہیں۔ اگر فوجی اڈوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ مجموعی طور پر 710 مقامات بنتے ہیں جو فلسطینی زندگی کو مفلوج کر رہے ہیں۔

بستیوں کی توسیع کا طریقہ کار

بستیوں کی توسیع صرف نئے مکانات کی تعمیر تک محدود نہیں ہے۔ کبھی یہ راستہ ایک بائی پاس سڑک سے شروع ہوتا ہے جو وسیع زرعی اراضی کو نگل لیتی ہے۔ کبھی کسی پہاڑ کو سرکاری زمین قرار دے کر وہاں ایک چھوٹی سی چوکی بنائی جاتی ہے، جسے بعد میں بجلی، پانی اور فوجی تحفظ فراہم کر کے ایک مستقل بستی میں بدل دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بستیوں کے گرد حفاظتی زون (بفر زون) قائم کر کے فلسطینی کسانوں کو ان کی اپنی زمینوں تک رسائی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ چرواہوں کے علاقوں میں انتہا پسند گروہ خوف و ہراس اور روزانہ کی سفاکیت کے ذریعے بدو آبادیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ قابض ریاست جہاں قانون کو قبضے کے لیے استعمال کرتی ہے، وہاں وہ منظم انتشار (Organized Chaos) کا سہارا بھی لیتی ہے تاکہ انتہا پسندوں کے انفرادی حملوں کو فوجی چھتری تلے مستقل حقیقت بنایا جا سکے۔

مقبوضہ بیت المقدس اور وادی اردن: قبضے کے دو بڑے نمونے

مقبوضہ بیت المقدس میں صہیونی منصوبہ اپنی پوری سفاکیت کے ساتھ نظر آتا ہے جہاں شہر کو بیت لحم اور رام اللہ سے کاٹنے کے لیے بستیوں کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں تقریباً 15 بڑی بستیاں ہیں جہاں 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد آباد کار مقیم ہیں۔ ہر نئی شاہراہ اور ہر مسمار کیا گیا فلسطینی گھر شہر کی تاریخی اسلامی و مسیحی شناخت کو مٹا کر ایک مصنوعی صہیونی اکثریت مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ دوسری طرف وادی اردن (الأغوار) میں قبضے کا مقصد زمین، پانی کے وسائل اور سرحدوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ یہاں بدو آبادیوں کو ہراساں کرنا اور زرعی آلات کی ضبطگی روز کا معمول ہے تاکہ اس علاقے کو کسی بھی مستقبل کی فلسطینی خود مختاری سے دور رکھا جا سکے۔

فلسطینیوں پر روزمرہ کے اثرات اور انسانی حقوق کی پامالی

بستیوں کے سائے میں رہنے والے فلسطینیوں کے لیے زندگی ایک مستقل عذاب ہے۔ کسانوں کو اپنی زمین تک پہنچنے کے لیے ذلت آمیز سکیورٹی کوآرڈینیشن کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ طلباء کو سکولوں اور یونیورسٹیوں تک جانے کے لیے طویل اور دشوار گزار فوجی راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ آباد کاروں کا تشدد کوئی استثنا نہیں بلکہ ایک پالیسی ہے جس کے تحت فصلیں جلائی جاتی ہیں، زیتون کے درخت کاٹے جاتے ہیں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے تاکہ فلسطینی زندگی کو ناقابل برداشت بنا کر انہیں خاموش ہجرت پر مجبور کیا جا سکے۔ معاشی طور پر بھی فلسطینی معاشرہ مفلوج ہو چکا ہے کیونکہ زرعی زمینیں چھن چکی ہیں اور پانی کے وسائل پر قابض اسرائیل کا مکمل کنٹرول ہے۔

قانون کی نظر میں بستیوں کی حیثیت

بین الاقوامی قانون، بشمول چوتھا جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادیں، مقبوضہ زمین پر ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں اپنی آبادی منتقل کرنا اور وہاں کے وسائل پر قبضہ کرنا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم مسئلہ قانونی وضاحت کی کمی نہیں بلکہ عالمی برادری کی جانب سے قابض اسرائیل کے احتساب کا نہ ہونا ہے۔ دہائیوں سے سفارتی بیانات تو جاری کیے جا رہے ہیں لیکن زمین پر اسرائیل کی سفاکیت اور توسیع پسندی کو روکنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

خلاصہ اور سیاسی شعور

مغربی کنارے میں استعماری بستیاں محض مکانات کا مجموعہ نہیں بلکہ فلسطینی وجود کو مٹانے کا ایک ہتھیار ہیں۔ یہ زمین پر قبضہ کرنے، فلسطینی معاشرے کو بکھیرنے اور کسی بھی آزاد فلسطینی خود مختاری کے راستے میں ناقابل عبور رکاوٹیں کھڑی کرنے کا مثلث ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں بلکہ صہیونی ریاست کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ اس لیے بستیوں کے معاملے کو محض خبروں کی حد تک نہیں بلکہ ایک جاری نسل کشی اور استعمار کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، جیسا کہ مرکزاطلاعات فلسطین مسلسل اس کی نشاندہی کرتا آ رہا ہے۔ یہ کوئی جائیداد کا تنازع نہیں بلکہ ایک قوم کو اس کی جڑوں سے اکھاڑنے کی صہیونی سازش ہے، جس کے خلاف فلسطینی عوام اپنے بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔