لیگل ایڈوائزر کا رومان غوفمان کی بطور موساد سربراہ تقرری منسوخ کرنے کا مطالبہ

0
8

اسرائیلی حکومت کی قانونی مشیر (لیگل ایڈوائزر) گالی بہاراو میارا نے آج اتوار کے روز سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ وہ رومان غوفمان کی بطور موساد چیف تقرری کو منسوخ کرنا ضروری سمجھتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس تقرری کے طریقہ کار اور ان حقائق میں "بنیادی خامیاں” موجود ہیں جن کی بنیاد پر مشاورتی کمیٹی نے ان کے نام کی سفارش کی تھی۔

عدالت میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق، ایک اسرائیلی نابالغ (مائنر) کو ملازمت پر رکھنے کا معاملہ، جس میں غوفمان ملوث رہے ہیں، ان کی دیانت داری اور ساکھ پر "سنگین سوالات” کھڑے کرتا ہے، اور اس طرح ان کی موساد کے سربراہ کے طور پر تقرری کو مشکوک بناتا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب وہ اسرائیلی فوج میں ایک ڈویژن کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

قانونی مشیر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ موساد کے موجودہ سربراہ ڈیوڈ برنیا نے انہیں ایک "خفیہ خط” بھیجا ہے تاکہ اسے اس تقرری کے خلاف دائر درخواستوں کے سلسلے میں سپریم کورٹ کو منتقل کیا جا سکے۔ انہوں نے اس خط کو ایک "انتہائی اہم دستاویز” قرار دیا جو ادارے کے اندرونی معاملات اور کمیٹی کی جانب سے دیانت داری کے معیار کی جانچ سے متعلق ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ یہ دستاویز ججوں کے سامنے ایک بند کمرے کی کارروائی (ان کیمرا سیشن) کے دوران پیش کی جائے۔

عرب 48، 10 مئی 2026

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں