غزہ ۔ مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی میں تحریکِ آزادی کے شیدائیوں اور فلسطینی عوام کے ایک عظیم اور ٹاٹھیں مارتے ہوئے جم غفیر نے بدھ کے روز القسام بریگیڈز کے مایہ ناز کمانڈر محمد عودہ "ابو عمرو” اور ان کے معصوم اہل خانہ کے پاکیزہ اجسادِ خاکی کو غزہ شہر میں نمازِ ظہر کے بعد ایک انتہائی پرشکوہ اور تاریخی جلوس کی شکل میں سپردِ خاک کر دیا۔
مراسمِ تدفین اور آخری الوداعی سفر میں ہزاروں کی تعداد میں سر بکف مجاہدین اور شہریوں نے شرکت کی، جس کا آغاز شارع الثورہ پر واقع مسجد النور سے ہوا۔ اس موقع پر پورا علاقہ غاصب صہیونی دشمن کی ننگی جارحیت، مظالم اور مسلسل نسل کشی کے خلاف شدید نعرے بازی سے گونج اٹھا۔ شرکا نے غاصب اسرائیل کے سامنے جھکنے کے بجائے غازیوں اور شہیدوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مزاحمت کا راستہ ہر قیمت پر جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سوگواروں نے شدید رنج و غم، دلی صدمے اور غاصب دشمن کے خلاف گہرے غم و غصے کے بادلوں کے سائے میں معصوم شہدا کے جنازوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔
انسانیت سوز مظالم کی داستان کو طول دیتے ہوئے قابض صہیونی افواج نے گذشتہ روز بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے کمانڈر محمد عودہ کو ان کی شریکِ حیات اور تین لختِ جگروں سمیت اس وقت بے دردی سے شہید کر دیا تھا جب قابض اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے غزہ شہر کے گنجان آباد محلے الرمال میں واقع ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر وحشیانہ بمباری کی، جس کے نتیجے میں پورا ہنستا کھیلتا خاندان فلسطینیوں کے عظیم نصب العین پر قربان ہو گیا۔
آج صبح ہی اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے فلسطینی غیور عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ غاصب دشمن کو پیغام دینے کے لیے کمانڈر محمد عودہ اور ان کے اہل خانہ کی آخری رسومات اور جنازے میں بھرپور، تاریخی اور وسیع پیمانے پر شرکت کریں۔ حماس نے اپنے بیانیے میں اس عزم کا اظہار کیا کہ کمانڈر محمد عودہ جہاد، سرفروشی اور لازوال قربانی کے میدانوں میں ہمیشہ ثابت قدم اور چٹان کی طرح مضبوط کھڑے رہے اور انہوں نے قابض صہیونی عقوبت خانوں کی پروا کیے بغیر اپنے پاکیزہ خون سے امتِ مسلمہ اور فلسطین کی عزت، سربلندی اور وقار کا ایک نیا روشن باب رقم کر دیا ہے۔


