انتظامی حراست میں اضافہ، صہیونی زندانوں میں بیمار اسیران کی تعداد میں اضافہ، المناک صورتحال

0
0

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے آج منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی گرفتاریوں کی جارحانہ پالیسیوں اور خاص طور پر انتظامی حراست کے بے جا استعمال کے باعث، اپریل سنہ 2026ء کے آغاز تک قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید فلسطینی اور عرب اسیران کی کل تعداد 9600 سے تجاوز کر گئی ہے۔

محکمہ امور اسیران ، کلب برائے اسیران اور الضمیر فاؤنڈیشن برائے نگہداشت اسیر و حقوق انسان نے ایک مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ ان قیدیوں میں 86 خواتین اسیرات بھی شامل ہیں، جن میں سے دو ایسی ہیں جو غزہ میں جاری نسل کشی کی مہم شروع ہونے سے قبل ہی قید تھیں، جبکہ 25 خواتین اسیرات انتظامی حراست کے تحت قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد لگ بھگ 350 تک پہنچ گئی ہے جو عوفر اور مجدو جیلوں میں قید ہیں، جبکہ دو بچیاں الدامون جیل میں قید ہیں۔ اداروں نے مزید اشارہ کیا کہ سنہ 2025ء کے اختتام تک انتظامی حراست میں لیے گئے بچوں کی تعداد 180 کے قریب تھی۔

اسی تناظر میں بغیر کسی الزام یا مقدمے کے قید رکھے جانے والے انتظامی اسیران کی مجموعی تعداد 3532 سے زائد ہو گئی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان میں سے اکثریت ان سابقہ اسیران کی ہے جو اپنی زندگی کے قیمتی سال پہلے ہی قابض اسرائیل کی جیلوں میں گذار چکے ہیں۔

اسیران کی اس فہرست میں فلسطینی معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندگی موجود ہے، جن میں طلبہ، صحافی، وکلاء، ڈاکٹرز، ماہرین تعلیم، اراکین پارلیمنٹ، سماجی کارکن، مزدور اور شہداء و اسیران کے لواحقین شامل ہیں۔

جیل انتظامیہ کے ڈیٹا کے مطابق اپریل سنہ 2026ء کے آغاز تک 1251 ایسے قیدی بھی تھے جنہیں قابض دشمن نے ’غیر قانونی جنگجو‘ کے زمرے میں رکھا ہوا ہے، تاہم اس تعداد میں وہ قیدی شامل نہیں جو فوجی کیمپوں میں قید رکھے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے اداروں نے نشاندہی کی کہ غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی مہم کے آغاز سے بیمار اسیران کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان کی اکثریت یا تو پہلے سے بیمار تھی یا زخموں سے چور تھی، یا پھر جیلوں کے اندر وحشیانہ تشدد، طبی غفلت اور علاج سے محرومی کے باعث سنگین بیماریوں کا شکار ہو گئی ہے۔

شہداء کے حوالے سے بیان میں بتایا گیا کہ سنہ 1967ء سے اب تک شہید ہونے والے اسیران کی تعداد 326 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 89 اسیران نسل کشی کی موجودہ مہم کے دوران جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ غزہ سے گرفتار کیے گئے درجنوں اسیران تاحال جبری گمشدگی کا شکار ہیں جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

بیان کے آخر میں بتایا گیا کہ قابض صہیونی حکام تاحال 97 شہید اسیران کے جسد خاکی بھی اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں، خواہ ان کی شہادت نسل کشی کی اس مہم سے پہلے ہوئی ہو یا بعد میں۔