
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ العمل ہونے والے سیز فائر اور جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ آج مسلسل 187ویں دن بھی جاری رہا۔ ان خلاف ورزیوں میں بمباری، فائرنگ اور شہریوں کے گھروں کو بارود سے اڑانے کے المناک واقعات کے ساتھ ساتھ غزہ کی گزرگاہوں پر فوجی پابندیوں میں شدید اضافہ شامل ہے۔
غزہ شہر میں قابض دشمن کی جانب سے پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 4 شہری شہید ہو گئے۔
شہری دفاع کے حکام نے بتایا کہ غزہ شہر کے مغرب میں واقع شارع النفق پر قابض اسرائیل کے ڈرون حملے میں فلسطینی پولیس کے 3 اہلکار شہید ہوئے جبکہ متعدد دیگر شہری زخمی بھی ہوئے۔
آج صبح طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیا پروجیکٹ کے علاقے العلمی کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ایک شہید کا جسد خاکی الشفاء ہسپتال لایا گیا ہے۔
غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے میں قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے خان یونس کے مشرقی علاقوں میں دو الگ الگ واقعات میں شدید فائرنگ کی جس کے باعث علاقے میں تناؤ اور خوف و ہراس کی فضا مزید گہرا ہو گئی ہے۔
اسی طرح قابض اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں واقع جبالیا پناہ گزین کیمپ کے علاقے ابو زیتون میں شہریوں کے گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی وسیع کارروائیاں کیں جس کے ساتھ ہی غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر شدید گولہ باری بھی کی گئی۔
شہر کے جنوب مشرق میں واقع محلہ زیتون اور جبالیا کیمپ کے علاقے ابو زیتون میں گھروں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کا سلسلہ تھم نہ سکا جبکہ وسطی گورنری کی مشرقی پٹی پر تعینات اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے غزہ کے وسطی علاقوں کی جانب ایک بار پھر اندھادھند فائرنگ کی۔
دوسری جانب غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری صہیونی جارحیت اور نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی کل تعداد 72,333 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 172,202 تک پہنچ چکی ہے۔ وزارت نے اس اندوہناک صورتحال کی جانب بھی اشارہ کیا کہ ہزاروں متاثرین اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہیں اور قابض دشمن کی رکاوٹوں کے باعث امدادی ٹیموں کو ان تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

